Monday , December 18 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستانی ٹیم کیلئے دورہ انگلینڈ ایک تیزابی امتحان

پاکستانی ٹیم کیلئے دورہ انگلینڈ ایک تیزابی امتحان

امارات میں صرف دوستانہ میچس کھیلے گئے ، انگلینڈ میں اصل مقابلہ ہوگا : محمد یوسف
کراچی ۔ /5 جون (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے بیٹسمین کو مجوزہ دورہ انگلینڈ کے د وران ایک امتحانی صورتحال کا سامنا رہے گا کیونکہ پاکستانی کرکٹرس گزشتہ چند برسوں کے دوران متحدہ عرب امارات میں صرف دوستانہ نوعیت کے میچیس ہی کھیلتے ہیں ۔ دبئی ، ابوظہبی اور شارجہ کی سیریز میں اطمینان بخش مظاہرہ کے بعد آئی سی سی نے اپنی تازہ ترین ٹسٹ رینکنگس میں آسٹریلیا اور ہندوستان کے بعد پاکستان کو تیسرا مقام دی ہے ۔ مارچ 2009 ء کے دوران لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سے پاکستانی ٹیم متحدہ عرب امارات کے ان تین مقامات پر اپنی ہوم سیریز کھیلنے کے لئے مجبور ہے ۔ یوسف نے کہا کہ ’’یہ بات میرے لئے سب سے زیادہ باعث پریشانی ہے کہ پاکستانی ٹسٹ کرکٹ گزشتہ چند برسوں سے صرف متحدہ عرب امارات تک محدود رہ گیا ہے ۔ چنانچہ پاکستان کو اپنا بہترین ٹسٹ ریکارڈ برقرار رکھنے کیلئے انگلینڈ میں ان (پاکستانی ٹیم) کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے ‘‘ ۔ 41 سالہ سابق کپتان نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اور انگلینڈ کے حالات بالکل مختلف ہیں ۔ بہتر فارم میں موجود انگلینڈ کی بولنگ کے خلاف پاکستانی بیٹسمین کو وہاں کے حالات میں امتحان سے گزرنا ہوگا ‘‘ ۔ یوسف نے کہا کہ ’’ یہ ہمارے لئے ایک مشکل دورہ ہوگا ۔ ہماری اولین ترجیح یہ ہونی چاہئیے کہ انگلینڈ میں ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہاں ہمارا حشر بھی ویسا نہ ہو جیسا سری لنکا کا ہوا ہے ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے پاس کافی تجربہ کار بیٹسمین اور بہت زیادہ باصلاحیت بولرس ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’میئں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو سری لنکا سے زیادہ بہتر مظاہرہ کرنا چاہئیے کیونکہ یونس ، مصباح ، اظہر اور اسد شفیق جییسے تمام کھلاڑی کافی باصلاحیت اور تجربہ کار ہیں لیکن یہ کلیدی سوال ہے کہ وہ کس جلدی سے خود کو انگلینڈ کے حالات اور میچیس کا مقابلہ کرنے کے قابل بناسکتے ہیں ‘‘ ۔ محمد یوسف جو 90 ٹسٹ میچیس اور 288 ونڈے انٹرنیشنلز کھیل چکے ہیں کہا کہ پاکستانی بیٹسمین ماضی کے دوران انگلینڈ میں مسلسل جدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ جس کے باوجود انہوں نے میزبانوں کو سخت مقابلہ دیا ہے ‘‘
۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’’ 2010 ء کا دورہ انگلینڈ گزشتہ کئی سال کے دوران پاکستانی ٹیم کا بدترین دورہ رہا ہے اور اس ٹیم کو چاہئیے کہ بہتر کھیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ 2010 ء کی صورتحال کا اعادہ نہ ہوسکے ‘‘ ۔ محمد یوسف نے کہا کہ انگلینڈ کی ٹیم کے لئے سازگار پچوں اور ان کے پاس بہترین بولرس کی موجودگی کے سبب ہندوستانی بیٹسمین کو بھی حالیہ دورہ انگلینڈ میں کافی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT