Sunday , April 22 2018
Home / عرب دنیا / پاکستانی پولیس آفیسر فرضی انکاؤنٹر کرنے پر خدمات سے معطل

پاکستانی پولیس آفیسر فرضی انکاؤنٹر کرنے پر خدمات سے معطل

کراچی ۔ 22 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایک پاکستانی پولیس آفیسر کو فرضی انکاؤنٹر کرتے ہوئے ایک ابھرتے ہوئے اداکار کو دیگر تین مشتبہ طالبان دہشت گردوں کے ساتھ ہلاک کرنے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے خدمات سے معطل کردیا گیا۔ ایک تحقیقاتی کمیٹی نے ان کے خلاف یہ کارروائی کی۔ دریں اثناء پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ راؤ انور اور دیگر سینئر پولیس اہلکار کو سوشیل میڈیا پر اس واقعہ کی زبردست مذمت کرنے کے بعد معطل کردیا گیا۔ سوشیل میڈیا پر 27 سالہ مہلوک نقیب کے دوستوں اور رشتہ داروں نے اس کے انکاؤنٹر پر زبردست تنقیدیں کرنا شروع کردی تھیں۔ نقیب شمالی وزیرستان کا شہری تھا جس کے بارے میں یہ باور کروایا گیا کہ وہ ممنوعہ تنظیم تحریک طالبان پاکستان کا مبینہ رکن ہے ۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقات کے ذریعہ معلوم کیا کہ نقیب کی سہراب گوٹھ علاقہ میں ایک دوکان تھی جو اداکاری اور ماڈلنگ میں اپنا کیریئر بنانا چاہتا تھا جبکہ اس کا کوئی سابق مجرمانہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ 13 جنوری کو راؤ انور کی قیادت میں دھاوے کے دوران نقیب اور دیگر تین دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا جس کے بعد پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ان چاروں کا تعلق ٹی ٹی پی سے تھا۔ دوسری طرف ایڈیشنل انسپکٹر جنرل، کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ ثناء اللہ عباسی جو تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، نے کہا کہ مہلوک نقیب کے ارکان خاندان کو کراچی آنے پر پولیس تحفظ فراہم کیا جائے گا جو اپنا بیان ریکارڈ کروانے آنے والے ہیں۔ راؤ انور کے بارے میں یہ کہا جارہا ہیکہ ’’فرضی انکاؤنٹر‘‘ کے ماہر بنتے جارہے ہیں جہاں وہ ہمیشہ یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ انکاؤنٹر میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT