Thursday , September 20 2018
Home / ہندوستان / پاکستانی چوکیوں پر بی ایس ایف کی بھاری شلباری

پاکستانی چوکیوں پر بی ایس ایف کی بھاری شلباری

 

l چار دنوں میں زائد از 9,000 مارٹر شل فائر کئے گئے
l پاکستان رینجرس کو بھاری نقصان ، بی ایس ایف کا دعویٰ

نئی دہلی ۔ 22 جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) بی ایس ایف نے جموں میں گزشتہ چار یوم میں پوری بین الاقوامی سرحد ( آئی بی ) کے پار زائد از 9,000 راؤنڈ مارٹر شل فائر کئے جو پاکستان کی بلااشتعال فائرنگ کے خلاف ٹھیک ٹھیک نشانہ لگاکر کی گئی جوابی کارروائی کا حصہ رہا ، جس کے نتیجہ میں پاکستان رینجرس کے کئی مقامات پر واقعہ چوکیوں اور فیول ڈمپس کو شدید نقصان پہونچا اور اور اُن میں سے متعدد تباہ ہوگئے ، عہدیداروں نے آج یہ بات کہی۔ بارڈر سکیورٹی فورس ( بی ایس ایف ) اور وزرات داخلہ کے سینئر عہدیداروں نے کہا کہ جموں علاقہ میں190 کیلومیٹر بین الاقوامی سرحد کے پاس کی صورتحال کافی کشیدہ ہے کیونکہ پاکستان نے یہ ساری پٹی میں کل شام سے بھاری فائرنگ جاری رکھی تھی ۔ عہدیداروں نے کہاکہ بی ایس ایف نے 19 جنوری سے 9,000 راؤنڈ مارٹر شل فائر کئے جبکہ پاکستان نے نقصِ امن میں پہل کی اور بی ایس ایف کی چوکیوں اور غیرفوجی علاقوں کو نشانہ بنایا تھا ۔ انھوں نے کہاکہ مارٹر شل باری دیگر اصلاح اور گولہ بارود کے ذریعہ مؤثر جوابی کارروائی میں کارگر اضافہ ثابت ہوئی ہے ۔ بی ایس ایف نے کہا کہ اُس کی فورس خاص نشانوں پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے کئی ٹھکانوں کو تباہ کرچکی ہے اور متعدد دیگر مقامات پر پاکستان رینجرس کے گولہ بارود اور ایندھن کی ذخیرہ اندوزی کے مراکز بھی تباہ کردیئے گئے ۔ فورس نے دو چھوٹے ویڈیو کلپ بھی جاری کئے ہیں جو ظاہر طورپر فیول ڈمپس کی تباہی کا ثبوت ہیں۔ عہدیداروں نے کہاکہ جموں میں سرحد کے پاس کا تنگ علاقہ بھی پاکستانی فورسیس کی بلااشتعال فائرنگ کا نشانہ بنا ہے جسے اب تک نہیں چھیڑا گیا تھا ۔ وہاں پر بی ایس ایف کی سرحدی چوکیاں قائم ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ان علاقوں میں سکیورٹی فورس کا ایک جوان اور چند عام شہری زخمی ہوگئے اور وہاں گزشتہ روز سے سرحدپار سے بھاری فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ ہندوستانی فورسیس نے سرحد پار سے پاکستان آرمی اور رینجرس کے سینئر کمانڈرس کی نقل و حرکت بھی دیکھی ہے ۔ یہ دورہ ظاہر ہے پاکستانی کمانڈرس کی جانب سے اپنے دستوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے جنھیں ہندوستان کی طرف سے زبردست جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اور یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ سرحدپار فوجی دستوں کو بھاری جانی نقصان ہوا ہے یا بڑی تعداد میں اُن کے جوان زخمی ہوئے ہیں۔ رینجرس نے بی ایس ایف سے بات چیت سے انکار کیا ہے اور ابھی تک وہ فلیگ میٹنگ کیلئے رضامند نہیں ہوئے ہیں ۔ جموں علاقہ میں تمام بی ایس ایف سرحدی چوکیوں کو سخت چوکس کردیاگیا ہے اور سینئر کمانڈرس سے کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ تقریباً ایک ہفتہ تک ضرور محاذ پر رہیں۔ بی ایس ایف نے بین الاقوامی سرحد کے پاس دراندازی کو روکنے کیلئے طلایہ گردی اور وہاں اپنی طرف سے تعیناتی میں بھی شدت پیدا کردی ہے ۔
ایل او سی پار بس سرویس کااحیاء
اس دوران ضلع پونچھ سے آج ایل او سی پار بس سرویس کا احیاء کیا گیا جو گزشتہ ہفتے معطل کردی گئی تھی ۔ لائن آف کنٹرول اور ہند۔ پاک سرحد کے پاس اگرچہ جھڑپیں جاری ہے لیکن ہفتہ وار بس سرویس کا احیاء کیا گیا ہے ۔ اس سرویس کے ذریعہ 9افراد ہندوستان کو واپس ہوئے جبکہ 20 دیگر پاکستان مقبوضہ کشمیر کو واپس چلے گئے ۔

TOPPOPULARRECENT