Monday , June 18 2018
Home / کھیل کی خبریں / پاکستانی کوہ پیماؤں نے پہلی مرتبہ’ کے ٹو‘ سر کر لی

پاکستانی کوہ پیماؤں نے پہلی مرتبہ’ کے ٹو‘ سر کر لی

کراچی ۔26جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کی کوہ پیما ٹیم نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ’’کے ٹو‘‘ کو پہلی مرتبہ سر کر لیا ہے۔واضح رہے کہ کے ٹو کے لئے پہلی مرتبہ ایک ایسی کوہ پیما ٹیم روانہ کی گئی ہے جس کے تمام ارکان پاکستانی ہیں۔پاکستانی کوہ پیماؤں کی ٹیم میں حسن جان، علی درانی، رحمت اللہ بیگ، غلام مہدی، علی اور محمد صادق شامل ہیں۔پہلیمرتبہ 1954ء میں اٹلی کے کوہ پیماؤں نے اس چوٹی کو سر کیا تھا اور پاکستانی کوہ پیماؤں کی جانب سے یہ کوشش اس پہلی کوشش کی 60 ویں سالگرہ کے موقعے پر کی گئی ہے۔ ایورسٹ کے بعد کے ٹو دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے لیکن کوہ پیماؤں کے نزدیک اس کا سرکرنا مشکل ترین ہے۔کے ٹو کے لیے پہلیمرتبہ ایک ایسی کوہ پیما ٹیم روانہ کی گئی ہے جس کے تمام ارکان پاکستانی ہیں۔اس کو سرکرنے کی کوشش میں کئی کوہ پیما اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

چوٹی سر کرنا آدھی کامیابی ہوتی ہے کیونکہ چوٹی سے نیچے اترتے وقت بھی کئی کوہ پیما جان گنوا چکے ہیں۔کے ٹو کی اونچائی 8611 میٹر س ہے اور یہ پاکستان کی سب اونچی چوٹی ہے جو پاکستان چین کی سرحد پر قراقرم کے بڑے کوہستانی سلسلے میں واقع ہے۔کے ٹو کو بلتی زبان میں ’چوگوری‘ بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب پہاڑوں کا راجہ ہوتا ہے۔6000 میٹرس تک تو اس پہاڑ پر چٹانیں ہیں اور اس کے بعد برف کا ایک سمندر ہے۔کوہ پیما کے ٹو کا سر کرنا مشکل ترین عمل مانتے ہیں۔ 1954 میں اطالوی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم کے ٹو کو سر کرنے کی خاطر اپنی قسمت آزمانے پاکستان آئی تھی۔اس ٹیم میں 12 کوہ پیما کے علاوہ چار سائنسداں اور ایک ماہر کو ہ پیما پروفیسر آرڈیٹو ڈیسیؤ بھی شامل تھے۔ وہ دوسری جنگ عظیم سے قبل بھی ایک اطالوی ٹیم کے ساتھ آ چکے تھے۔

TOPPOPULARRECENT