Saturday , April 21 2018
Home / کھیل کی خبریں / پاکستانی ہاکی کوچ کے عہدے پر مزید نہیں رہنا چاہتا: شہناز شیخ

پاکستانی ہاکی کوچ کے عہدے پر مزید نہیں رہنا چاہتا: شہناز شیخ

لاہور ، 6 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ شہناز شیخ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو مطلع کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے پر مزید کام کرنا نہیں چاہتے۔ واضح رہے کہ پاکستانی ہاکی ٹیم اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ اولمپکس میں شرکت سے محروم ہوگئی ہے۔ بلجیم میں کھیلے گئے اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ میں وہ دس ٹیموں میں آٹھویں پوزیشن حاصل کر سکی اور اسے فرانس اور آئرلینڈ جیسی ٹیموں نے بھی شکست سے دوچار کیا۔ شہناز شیخ نے اینٹورپ سے برطانوی نشریاتی ادارہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے کہ وہ اب ہیڈ کوچ کے عہدے پر فائز رہنا نہیں چاہتے۔ تاہم وہ پاکستان میں نیشنل ہاکی کی بہتری کیلئے فیڈریشن کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔ شہناز شیخ نے کہا کہ اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ میں پاکستانی ٹیم کی ناکامی غیرمتوقع ہے کیونکہ ٹیم نے ایشین گیمز اور چمپینس ٹرافی کے فائنل کھیلے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس مایوس کن کارکردگی کی وجہ فارورڈز کا گول کرنے کے کئی مواقع ضائع کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فارورڈز نے تقریباً 60 مواقع ضائع کئے اور جب گول کرنے کے مواقع ضائع کئے جاتے ہیں تو دفاع پر بہت دباؤ آجاتا ہے اور وہ غلطیاں کرنے لگتا ہے۔ شہناز شیخ نے کہا کہ اولمپک کوالیفائنگ راؤنڈ کیلئے ٹیم کو تیاری کیلئے جو سہولتیں چاہئے تھیں وہ نہیں ملیں جس کی وجہ فیڈریشن کی خراب مالی حالت ہے۔ ان کے مطابق ٹیم کی تیاریوں کو اس وقت دھکہ پہنچا جب نصیر بندہ اسٹیڈیم کی خراب ٹرف پر متعدد کھلاڑی زخمی ہوئے اور ہمیں کیمپ ختم کرنا پڑا۔ شہناز شیخ نے کہا کہ انھوں نے فیڈریشن سے کہا تھا کہ ٹیم کو کوالیفائنگ راؤنڈ سے تین ہفتے پہلے بلجیم بھیجا جائے لیکن ٹیم ایونٹ شروع ہونے سے صرف چار دن پہلے وہاں پہنچی۔ شہناز شیخ نے کوچنگ اسٹاف سے ناصر علی اور سمیر حسین کو ہٹا کر دانش کلیم کو شامل کئے جانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں بھی اسسٹنٹ کی حیثیت سے ان کی صرف مدد کرتے تھے اور دانش کلیم نے بھی یہی کیا۔ ان کے مطابق اس تبدیلی سے انھیں کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور اس تبدیلی کا تعلق بھی فیڈریشن کی مالی مشکلات سے تھا۔ انھوں نے کہا کہ کھلاڑی اور کوچ آٹھ ماہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں اور وہ خود ڈیڑھ سال سے بغیر پیسے کے کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں ڈیلی الاؤنس کا نصف ملا جبکہ کوریا میں ایک پیسہ بھی ڈیلی الاؤنس کی مد میں نہیں دیا گیا۔ شہناز شیخ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی ہاکی کی بہتری کے خیال سے فیڈریشن میں شامل ہوئے تھے لیکن اصلاح الدین اور انھوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ وہ چند ماہ میں ہی ٹیم کو بلندی پر لے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT