Wednesday , December 13 2017
Home / اداریہ / پاکستان اور سیاسی عدم استحکام

پاکستان اور سیاسی عدم استحکام

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا رقیب
ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
پاکستان اور سیاسی عدم استحکام
پاکستان کی سیاست کے تعلق سے یہ کہا جاتا ہیکہ وہاں بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر ہی حکومت بنائی جاتی ہے اور حکومت کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے۔ جمہوری طرز کی حکمرانی کے دعویٰ تو صرف ایک دلاسہ والی بات ہے۔ پاکستانی عوام کو اپنے حکمرانوں کے بارے میں جو کچھ بھی علم ہے اس کے مطابق آمریت پسندانہ حکمرانوں سے لیکر جمہوریت نواز سیاسی پارٹیوں کو اپنی طاقت اور اقتدار کے درمیان ہمیشہ غیریقینی کیفیت کا اندیشہ لگا رہتا ہے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف پر جب پنامالیکس مقدمہ میں سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تو ان کی پارٹی نے اپنے لئے دوسرا رہنما منتخب کرکے نواز شریف کو دوبارہ اقتدار پر لانے کی کوشش بھی شروع کی تھی لیکن اب نواز شریف کے خلاف پاکستان کی احتساب عدالت نے 2 اکٹوبر کو فردجرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی ہے تو پھر ان کا سیاسی مستقبل پاکستانی قانون کی رو سے معلق کردیا جاسکتا ہے۔ نواز شریف کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے سابق تجربات کی روشنی میں ان کی پارٹی کے قائدین اس مرتبہ بھی امید کے ساتھ کوشش کررہے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو پاکستانی عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوگی۔ احتساب عدالت نے پاناما لیکس کے حوالے سے 3 ریفرنس میں نواز شریف، ان کے فرزندان حسن اور حسین نواز اور ان کی دختر مریم نواز اور ان کے خاوند کیپٹن صفدر کو عدالت میں طلب کیا تھا۔ نواز شریف نے عدالت میں حاضری کو یقینی بناکر اپنے تمام مخالفین کی قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کردیا۔ پاکستانی عوام کو ایک مستقل پائیدار اور مستحکم حکمرانی نصیب نہیں ہوسکی ہے۔ یہاں کبھی فوجی اقتدار رہا تو کبھی جمہوری طرز کی حکمرانی لاکر یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان بھی ایک جمہوری ملک ہے جبکہ اس ملک کے سیاسی قائدین کی سیاسی اتھل پتھل کی ایک افسوسناک تاریخ رہی ہے۔ پنامالیکس کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو جس طرح کے مقدمہ کا سامنا ہے اس کے بعد انہیں اپنے سیاسی عزائم کو محدود کرلینے چاہئے تھے مگر ان کی پارٹی پی ایم ایل (این) نے پولیٹیکل پارٹنر آرڈ (پی پی او) میں ترمیم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس ترمیم کے بعد نواز شریف کو عدالت کی رولنگ کے باوجود اپنی سیاسی پارٹی کا سربراہ بن جانے کا قانونی حق حاصل ہوسکتا ہے۔ سابق میں انہیں کسی بھی عوامی عہدہ سے دور رکھا گیا تھا۔ پی پی او نے سابق قاعدہ کے مطابق نواز شریف پاکستان کی اعلیٰ عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیئے جانے کے بعد کسی بھی عوامی عہدہ کو حاصل کرنے سے بھی نااہل ہوگئے تھے مگر پی ایم ایل ن نے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھا کر پی پی او میں ترمیم کرالی۔ اس پارٹی کی اس طرح کی حرکت سے پاکستان کی سیاسی زندگی میں غیرقانونی و غیراخلاقی دراندازی کی کوشش ہوسکتی ہے بلکہ خود پارٹی کے داخلی گوشوں میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ یہ دعویٰ کیا جارہا ہیکہ پاکستان کے عوام کی اکثریت نوام شریف کی حامی ہے۔ اسی تناظر میں حکمراں پارٹی اب تک نواز شریف کو دوبارہ اقتدار پر لانے کے موضوع پر ہی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔ اگر یہ پارٹی کرپشن کے سنگین الزامات اور سپریم کورٹ یا پاکستانی عدلیہ کی ظاہر کردہ تشویش کو نظرانداز کرکے اپنی سیاسی طاقت کا بیجا استعمال کرتی ہے تو پھر آگے چل کر خود پی ایم ایل (ن) کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاسی زندگی کیلئے بڑے چیلنجس پیدا ہوسکتے ہیں۔ احتساب عدالت کے آج کے فیصلہ اور 2 اکٹوبر کو فردجرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کردیئے جانے کے بعد پی ایم ایل ن کو یہ اندازہ ہونا چاہئے کہ عدلیہ کا احترام اس کی ذمہ داری ہوگی۔ اگر وہ اس سچائی کے باوجود نواز شریف کو دوبارہ اقتدار پر لانے کیلئے تمام دستوری میکانزم کا استعمال کرے گی تو پھر اس کو پاکستان کی عدلیہ کے ساتھ متصادم سے گذرنا پڑے گا۔ نواز شریف نے عدالت کے سامنے حاضر ہوکر یہ واضح کردیا کہ وہ عدالتوں سے فرار ہونے والوں میں سے نہیں ہیں۔ پاکستان کے آئین اور قانون کی سربلندیوں کیلئے ان کی قربانیوں سے سے بھی پاکستانی عوام واقف ہیں۔ فوجی حکمرانی کے دور میں بھی انہوں نے ثابت قدمی کے ساتھ سزاؤں کا سامنا کیا ہے۔ تاہم ان تمام سیاسی نشیب و فراز کے بعد پاکستان کے عوام کو ایک دیانتدار اور مستحکم حکومت ملے گی یہ کہنا مشکل ہے۔ جس ملک کو بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر چلایا جاتا ہے وہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس سیاسی عدم استحکام کے نتائج بھی افسوسناک ہی نکلیں گے۔

 

TOPPOPULARRECENT