Sunday , October 21 2018
Home / عرب دنیا / پاکستان اور چین کا جنوبی ایشیاء کیلئے امریکی پالیسی پر غور

پاکستان اور چین کا جنوبی ایشیاء کیلئے امریکی پالیسی پر غور

چین ۔ پاکستان معاشی راہداری کے را کی جانب سے سبوتاج کے پاکستانی الزامات مسترد
اسلام آباد ؍ بیجنگ ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان اور چین نے آج افغانستان اور جنوبی ایشیاء کیلئے نئی امریکی پالیسی پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف کثیر جہتی فورموں میں باہمی خریدی تعاون سے کام کرنے سے اتفاق کیا۔ دفاعی مذاکرات کے آٹھویں دور میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اور چین باہمی تعاون کو مزید مستحکم اور اس میں مزید اضافہ کریں گے۔ ہندوستانی وفد کی قیادت معتمد خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور چینی وفد کی قیادت نائب وزیرخارجہ کونگ ژوان یو کررہے تھے۔ دونوں ممالک کے محکمہ خارجہ نے اپنے بیانات میں کہا کہ باہمی تعلقات کے پورے دائرے پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا جن میں ویلٹن روڈ اقدام خاص طور پر چین ۔ پاکستان معاشی راہداری باہمی تجارتی، دفاعی تعلقات دہشت گردی کا مقابلہ ثقافتی اور عوام سے عوام کے تبادلے پر بات چیت ہوئی۔ جنجوعہ اور کونگ نے افغانستان کی صورتحال پر بھی اپنے نظریات کا تبادلہ کیا۔ جزیرہ نمائے کوریا سے متعلق اور جنوبی ایشیاء سے متعلق نئی امریکی پالیسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ چین نے اپنے سدابہار حلیف پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں صف اول میں ہے۔ ملاقات کے دوران جنجوعہ نے مسئلہ کشمیر بھی اٹھایا۔ چین اور پاکستان نے باہمی تعاون میں تمام شعبوں بشمول سیاسی، صیانتی اور معاشی مسائل پر اضافہ سے اتفاق کیا اور کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر نمایاں تعاون کیا جائے گا۔ بیجنگ سے موصولہ اطلاع کے بموجب چین نے آج پاکستانی فوج کے ایک اعلیٰ سطحی جنرل کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ ہندوستان نے ایک خصوصی شعبہ محکمہ سراغ رسانی میں 50 کروڑ امریکی ڈالر مالیت سے چین۔ پاکستان معاشی راہداری کے سبوتاج کیلئے قائم کیا ہے۔ چین نے کہا کہ اسے ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ پاکستان کے مشترکہ سربراہ فوج کی کمیٹی کے صدرنشین جنرل زبیر محمدحیات نے 14 نومبر کو کہا تھا کہ ہندوستان علاقہ میں انتشار اور نیراج پھیلا رہا ہے۔ ہندوستانی محکمہ سراغ رسانی را نے ایک خصوصی شعبہ 50 کروڑ امریکی ڈالر مالیت سے قائم کیا ہے تاکہ چین۔ پاکستان معاشی راہداری کو سبوتاج کیا جائے۔ انہوں نے ہندوستان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے ذرائع ابلاغ سے پاکستان کے الزامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ چین نے ہندوستان پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے آہنی برادران سمجھتے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات سدابہار ہیں۔ انہوں نے واضح طور پر ہندوستان کے چین ۔ پاکستان معاشی راہداری پر اعتراضات کو مسترد کردیا۔ یہ راہداری پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے گذرتی ہے اور ہندوستان کا دعویٰ ہیکہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ چین نے کہا کہ علاقائی ممالک اور بین الاقوامی برادری کو چین ۔ پاکستان معاشی راہداری کی تائید کرنا چاہئے۔ پاکستان کے اعلیٰ عہدیداروں کے سبوتاج کے الزام کو چین نے مسترد کردیا اور کہا کہ چین ۔ پاکستان معاشی راہداری چین کے شورش زدہ صوبہ ژنجیانگ کو براہ گوادر بندرگاہ بلوچستان سے مربوط کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT