پاکستان آج ٹوئنٹی 20 میں ہندوستان کیخلاف پہلی کامیابی کا خواہاں

میرپور 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹ ٹیم 2014 ء کے ابتدائی سہ ماہ کے ٹورنمنٹس میں ہوئی ناکامیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کل پاکستان کے خلاف آئی سی سی ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ کے اپنے افتتاحی مقابلہ میں بہتر مظاہرہ کے لئے پُرعزم ہے۔ دوسری جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم آئی سی سی ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ میں پاکستان کے خلاف پہلی کامیابی کے لئے کوشاں ہے۔

میرپور 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی کرکٹ ٹیم 2014 ء کے ابتدائی سہ ماہ کے ٹورنمنٹس میں ہوئی ناکامیوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کل پاکستان کے خلاف آئی سی سی ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ کے اپنے افتتاحی مقابلہ میں بہتر مظاہرہ کے لئے پُرعزم ہے۔ دوسری جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم آئی سی سی ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ میں پاکستان کے خلاف پہلی کامیابی کے لئے کوشاں ہے۔

پاکستان جس نے چند دن قبل اِسی میدان پر ایشیاء کپ کے ایک سنسنی خیز مقابلہ میں ہندوستان کو شکست دی تھی اور اِس کامیابی سے اِس کے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند تھے لیکن گزشتہ رات جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے گئے وارم اپ مقابلہ میں پاکستان کو جو ہزیمت ناک شکست ہوئی اُس میں کہیں نہ کہیں کھلاڑیوں کے ذہن میں سوالات پیدا کردیئے ہیںدونوں ٹیموں کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ متوقع ہے جیسا کہ روی چندرن اشون کے خلاف شاہد آفریدی، فاسٹ بولر عمر گل کے خلاف ویراٹ کوہلی اور سعید اجمل کے خلاف مہندر سنگھ دھونی کے مظاہرے توجہ کے مرکز ہوں گے۔

ہندوستانی ٹیم کے لئے فی الحال ریکارڈس کافی مایوس کن ہیں جیسا کہ رواں برس مہندر سنگھ دھونی کی ٹیم کو بین الاقوامی سطح پر صرف دو سرکاری مقابلوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جیسا کہ اِس نے بنگلہ دیش اور افغانستان جیسی کمزور ٹیموں کو ایشیاء کپ میں شکست دی ہے۔ ٹوئنٹی 20 ورلڈکپ کے ضمن میں کھیلے گئے پہلے وارم اپ مقابلہ میں اِسے سری لنکا کے خلاف شکست ہوئی جبکہ گزشتہ رات انگلینڈ کے خلاف اِس نے 20 رنز کی کامیابی حاصل کی ہے۔ ہندوستانی کھلاڑیوں کے ذہن میں ایشیاء کپ کے آخری اوور میں روی چندرن اشون کے خلاف آفریدی کی جانب سے لگائے گئے چھکے ضرور موجود ہوں گے جو دونوں ٹیموں کے درمیان فرق پیدا کرسکتے ہیں۔ شیر بنگلہ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اِس مقابلے میں دونوں ٹیموں پر سخت دباؤ رہے گا۔ ہندوستانی ٹیم کے نقطہ نظر سے روہت شرما اور شکھر دھون کا ناقص فارم تشویش کا باعث ہے۔ حالانکہ مختصر ترین کرکٹ میں دونوں ہی کھلاڑی بہتر مظاہرہ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے پاس اجنکیا راہنے سے اننگز کے آغاز کی سہولت بھی دستیاب ہے چونکہ وہ راجستھان رائلز کے لئے ایک کامیاب اوپنر ثابت ہوئے ہیں۔

مڈل آرڈر میں یوراج سنگھ جنھوں نے ہندوستان کے لئے گزشتہ پانچ ٹوئنٹی 20 مقابلوں میں 4 مرتبہ مین آف دی میچ کے ایوارڈ حاصل کئے ہیں، اِن کے ہمراہ سریش رائنا کا شاندار فارم خوش آئند ہے جبکہ مہندر سنگھ دھونی کی واپسی نے بھی ٹیم کے بیاٹنگ شعبہ کو مستحکم کردیا ہے۔ دھونی نے انگلینڈ کے خلاف 14 گیندوں میں 21 رنز اسکور کرتے ہوئے اپنے فارم کا اشارہ دیا ہے۔ رویندر جڈیجہ اور روی چندرن اشون دو اہم اسپنرس ہوں گے۔ لیکن فاسٹ بولنگ شعبہ میں محمد سمیع کے ہمراہ بھونیشور کمار اور ورون آرون میں کسی ایک کا انتخاب ممکن ہے کیونکہ بھونیشور کمار کے حالیہ مظاہرے متاثرکن نہیں اِس لئے آرون کی تیز رفتار بولنگ اِنھیں ترجیح دلواسکتی ہے۔ پاکستان کے لئے احمد شہزاد، کپتان محمد حفیظ، اکمل برادران کے ہمراہ شاہد آفریدی ٹیم کے بیاٹنگ شعبہ کی اصل طاقت ہوں گے۔ جبکہ بولنگ میں عمر گل اور سہیل تنویر کے ہمراہ سعید اجمل کا تعاون دینے کے لئے کپتان حفیظ اور شاہد آفریدی موجود ہیں۔

TOPPOPULARRECENT