Sunday , December 17 2017
Home / دنیا / پاکستان اگر اپنی اصلاح نہ کرے تو ٹرمپ انتظامیہ سخت کارروائی کیلئے تیار

پاکستان اگر اپنی اصلاح نہ کرے تو ٹرمپ انتظامیہ سخت کارروائی کیلئے تیار

افغانستان میں ہندوستانی فوج صرف پاکستان کی وجہ
سے نہیں بھیجی گئی
امریکی وزیردفاع جم میاٹس کا سخت بیان ایک ایسے وقت
جب پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف امریکہ کے دورہ پر
پاکستان کو سفارتی طور پر یکا و تنہا کرنے کا ایک بار پھر انتباہ

واشنگٹن ۔ 5 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پاکستان کے خلاف کوئی بھی ضروری کارروائی کرسکتے ہیں تاوقتیکہ پاکستان دہشت گرد گروپس کے ساتھ اپنے تعاون کا سلسلہ بند نہ کردے۔ امریکی وزیر دفاع جم میاٹس نے آج یہ بات بتائی اور پاکستان کو انتباہ دیا کہ اگر اس نے اپنی ’’بے راہ روی‘‘ میں تبدیلی نہ کی تو اسے سفارتی طور پر بھی یکا و تنہا کیا جاسکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسے اپنے غیرناٹو حلیف کے موقف سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔ بس پاکستان یہی کام کرے کہ اپنی سرزمین پر پنپ رہے دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو فی الفور ختم کردے۔ جم میاٹس نے جنوبی ایشیاء اور افغانستان پر کانگریشنل گواہی کے دوران بااختیار مسلح سرویس کمیٹی کے ارکان کو یہ بات بتائی۔ کانگریس مین نے ان سے متعدد سوالات پوچھے جہاں انہوں نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے پر اپنے چڑچڑے پن کا اظہار کیا۔ تاہم جم میاٹس نے زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ امریکہ کے پاس کئی متبادل موجود ہیں۔ پاکستان اگر خطہ میں استحکام پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہوا تو امریکہ اپنے کسی نہ کسی متبادل کا استعمال ضرور کرے گا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ فی الحال ان کا یہ خیال ہیکہ ہم اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں گے کیونکہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے خلاف رائے شماری میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے اور پاکستان پر بھی انگلیاں اٹھائی گئی ہیں لہٰذا پاکستان یوں بھی اپنے آپ کو سفارتی طور پر یکاوتنہا ہی سمجھ رہا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے یوں تو پاکستان کو کئی بار انتباہ دیا ہے لیکن وہ اسے ایک موقع اور دینا چاہتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ پاکستان کے خلاف جم میاٹس کے سخت بیانات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف امریکہ کے دورہ پر ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ ہوچکے تعلقات کو دوبارہ درست کیا جاسکے جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کشیدہ ہوگئے تھے کہ پاکستان دہشت گرد گروپس کی پشت پناہی کررہا ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ نے ماہ اگست میں جنوبی ایشیاء اور افغانستان پر اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا جس میں انہوں نے پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کا بھی اشارہ دیا تھا۔

جم میاٹس کا یہ بھی کہنا ہیکہ افغانستان کو ہندوستان اپنی فوجیں اس لئے بھیجنا نہیں چاہتا کیونکہ ہندوستان کو وہاں پاکستان کی موجودگی کا بھی احساس ہے اور اگر ہندوستانی فوجیں بھی وہاں پہنچ گئیں تو پھر خطہ میں ایک نیا تنازعہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے البتہ افغانستان میں ہندوستان کے رول کی ستائش کی اور کہا کہ جنگ زدہ افغانستان میں ہندوستان نے اب تک جو بھی کام کئے ہیں انہیں کارہائے نمایاں کے زمرے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ جم میاٹس نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ ہندوپاک کے درمیان ’’اوپن بارڈر تجارت‘‘ علاقائی استحکام کی وجہ بن سکتی ہے لہٰذا اس تجویز پر غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی استحکام پیدا ہوگا بلکہ عوامی ضروریات زندگی کی تکمیل بھی ہوجائے گی۔ ایسی کئی اشیاء ہیں جو پاکستان میں دستیاب ہیں اور ہندوستان میں نہیں اور ہندوستان میں دستیاب ہیں اور پاکستان میں نہیں۔ لہٰذا عوام کو ان اشیاء کی خریدوفروخت کا موقع بھی ملے گا۔ جم میاٹس کے مطابق ہندوستان سوویت دور کے آلات کی بازآباد کاری کرنے تیار ہے تاوقتیکہ انہیں امریکن آلات سے تبدیل نہ کردیا جائے حالانکہ اس میں کافی عرصہ لگ جائے گا۔ افغانستان میں ایسے کئی شعبے میں جہاں ہندوستان اور امریکہ بہترین شراکت دار کے طور پر کام کررہے ہیں۔ دوسری طرف دونوں ممالک فوج سے فوج کے تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں اور ایسا کوئی دیگر ملک بھی کرسکتا ہے۔ اگر کوئی بھی ملک دہشت گردی کے مکمل صفائے کا خواہاں ہے اور جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن دیکھنا چاہتا ہے تو وہ ہمارے ساتھ شامل ہوجائے۔

TOPPOPULARRECENT