Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / پاکستان دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ ،اوباما کا تبصرہ

پاکستان دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ ،اوباما کا تبصرہ

پاکستان کا شدید ردعمل شخصی پیش قیاسی ، حقائق نہیں ، سرتاج عزیز کا بیان

اسلام آباد ۔ 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے آج امریکی صدر بارک اوباما کے ایک ریمارک پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اوباما نے کہا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کا ایک محفوظ ٹھکانہ بن سکتا ہے اور وہاں کئی دہوں تک استحکام قائم ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ اپنے آخری اسٹیٹ آف دی یونین خظاب نے منگل کے روز کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے کئی علاقوں افغانستان اور پاکستان میں استحکام آئندہ کئی دہوں تک قائم نہیں ہوسکتا۔ اوباما نے وسطی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کا بھی نام لیا تھا۔ اوباما نے کہا تھا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اس وقت دولت اسلامیہ اور القاعدہ کی بیخ کنی پر مرکوز ہونی چاہئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ صرف وہیں تک محدود ہوجائے۔ بہرحال انہوں نے اپنے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ مذکورہ بالا علاقے اور ممالک مستقبل میں بھی دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ بن سکتے ہیں۔ اسی دوران پاکستان کے مشیر امورخارجہ سرتاج عزیز نے ایک ناشتہ اجلاس میں اوباما کے ریمارکس کو یکسر مسترد کردیا۔ وہ اس وقت چینی سفارتکاروں اور میڈیا کے ساتھ تھے۔

انہوں نے کہا کہ اوباما نے پاکستان اور افغانستان کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ ان کی شخصی پیش قیاسی ہوسکتی ہے جبکہ ان ریمارکس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جس لڑائی کو جاری رکھا ہے اس کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ پاکستان کو کئی محاذوں پر کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے اور اب ہم چاہتے ہیں کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل طور پر صفایا ہوجائے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں جن کی خود امریکہ نے قبل ازیں ستائش کی ہے اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو لوگ ایک محفوظ ملک سے تعبیر کریں گے اور یہاں آنے پر فخر محسوس کریں گے۔ پاکستانی کرکٹ کو بھی قصداً یکا و تنہا کردیا گیا ہے۔ بیرونی ممالک کی ٹیمیں یہاں کھیلنے نہیں آتیں۔ پاکستان کی نئی نسل نے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو آج تک پاکستان کی سرزمین پر ایکشن میں نہیں دیکھا۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی نئی نسل بھی کرکٹ کو خود اپنے ہی ملک میں فروغ حاصل کرتا ہوا دیکھے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو بھی دہشت گردی کا سامنا ہے جبکہ وہاں کی تعمیر نو کیلئے ہندوستان کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے۔ پاکستان نے بھی اپنی جانب سے افغانستان کے عدم استحکام کو ختم کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔ اس میں ہم کس حد تک کامیاب ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ آج ہمارے دو ہی اچھے پڑوسی ملک ہیں ایک ہندوستان اور دوسرا افغانستان۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ اوباما کو اپنے آخری خطاب میں ہم سب کی دلجوئی کرنا چاہئے تھا لیکن انہوں نے عدم استحکام کی بات کہہ کر ہم سب کے سامنے ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ کیا پاکستان دہشت گردی کے قلع قمع کا متحمل نہیں ہوسکتا؟ کیا پاکستان کے پاس اتنی اہلیت نہیں ہے کہ وہ دہشت گردی کا صفایا کرتے ہوئے پاکستان کو ایک دہشت گردی سے پاک ملک میں تبدیل کردے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ہمارے پاس ہیں اور وہ بھی مثبت جوابات۔ ہم پاکستان کو کسی بھی حال میں دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ بننے نہیں دیں گے۔

TOPPOPULARRECENT