Sunday , September 23 2018
Home / دنیا / پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں کی تعمیل نہیں کررہا ہے

پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں کی تعمیل نہیں کررہا ہے

دہشت گردوں کے خلاف تحدیدات کی قراردادوں پر عمل آوری سے قاصر ، ایک سینئر امریکی انتظامی عہدیدار کا الزام

واشنگٹن ۔ 14 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام )پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشت گردوں کے خلاف تحدیدات کی قرارداوں کی تعمیل نہیں کررہاہے، امریکہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ہندوستان کے ساتھ پاکستان بھی بین الاقوامی فہرست نگرانی برائے دہشت گردوں کو مالیہ کی فراہمی میں شامل ہے ۔ محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے یہ تبصرے اہم مالیتی کارروائی ٹاسک فورس کے اجلاس منعقدہ پیرس کے موقع پر منظرعام پر آئے ۔ یہ اجلاس 18 تا 23 فبروری مقرر ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ اس بات پر دیرینہ تشویش ظاہر کی ہے کہ پاکستانی رقومات کی غیرقانونی منتقلی کے خلاف سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل آوری کا فقدان ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردوں کو مالیہ فراہم کرنے کا ایک نظام قائم ہے ۔ امریکہ کے ایک ترجمان نے منظم تشویش ظاہر کرنے کے علاوہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی چار قرارداوں کی تعمیل نہیں کی ہے جو دہشت گردوں کو غیرقانونی طورپر مالیہ کی منتقلی کے بارے میں تھیں۔ اُس نے سلامتی کونسل کی قرارداد 126 کی تعمیل کا تیقن دیا تھا لیکن اپنے تیقن کی تکمیل سے قاصر رہا ۔ غالباً یہ پہلی بار ہے جبکہ امریکہ پاکستان پر عدم تعمیل کا الزام عائد کرنے کے سلسلے میں منظرعام پر آیا ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد رکن ممالک سے مطالبہ کرتی ہے کہ تمام دہشت گردوں کے کھاتے منجمد کردیئے جائیں ۔ اُن کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہ کیا جائے اور راست یا بالواسطہ طورپر اُنھیں کسی سربراہی ، فروخت اور اسلحہ کی منتقلی پر امتناع عائد رہے گا ۔ دفاعی آلات بھی کسی فرد یا کسی کمپنی کی جانب سے جس کا تعلق القاعدہ ، اُسامہ بن لادن اور طالبان سے ہو جسے کمیٹی نے نامزد کیا ہے ان قراردادوں پر عمل آوری کرے گا ۔ امریکی عہدیدار ایک بیان پر جو پاکستان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دیا تھا ، سوال کا جواب دے رہے تھے ۔ پاکستان کے سینئر عہدیدار نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ، ایف اے ٹی ایف سے ربط پیدا کرکے پاکستان کو مشتبہ ممالک کی فہرست میں شامل کروانے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکہ اور ہندوستان اُن کوششوں کی قیادت کررہے ہیں تاکہ پاکستان کو بین الاقوامی رقومات کی غیرقانونی منتقلی اور دہشت گردوں کو مالیہ کی فراہمی کی سیاہ فہرست میں شامل کیا جائے ۔ پاکستان سے موصولہ اطلاعات کے بموجب فبروری میں بین حکومتی مالیاتی کارروائی ٹاسک فورس کا پلینری اجلاس ہوگا جس میں آئندہ کے مناسب اقدامات کا پاکستان کے سلسلے میں تعین کیا جائے گا ۔ ترجمان نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف نے پوشیدہ طورپر تبادلہ خیال کیا تھا جسے برسرعام اظہار نہ کرنے کا تیقن دیا گیا تھا جب تک کہ اس مسئلے پر کسی پالیسی کا فیصلہ نہ ہوجائے ۔ خفیہ طورپر ایف اے ٹی ایف کے داخلی تبادلے خیال اور راز کی دستاویزات اہمیت رکھتی ہیںاور اگر انھیں ظاہر کردیا جائے تو اس سے کارروائی میں خلل اندازی ہوسکتی ہے ۔ ہندوستان قبل ازیں کئی بار پاکستان پر الزام عائد کرچکا ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی کررہا ہے اور اپنی سرزمین پر اُس نے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں تعمیر کررکھی ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT