Friday , December 15 2017
Home / دنیا / پاکستان سے امن بات چیت مودی کے فیصلہ پر منحصر

پاکستان سے امن بات چیت مودی کے فیصلہ پر منحصر

واشنگٹن ۔ 21 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے ٹرمپ انتظامیہ نے آج ایک عجیب و غریب بیان دیتے ہوئے وزیراعظم ہند نریندر مودی سے یا تو اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے یا پھر وہ پاکستان کو شاید خاطر میں نہیں لاتا ۔ بیان کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کے ساتھ اُن بنیادوں پر امن مذاکرات نہیں کرسکتے جن سے خود اُن کی ( مودی ) سکیورٹی خطرے میں پڑجائے ۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے پاکستان کو باور کروایا کہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کے احیاء کے لئے اعتمادسازی کی اشد ضرورت ہے ۔ یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن آئندہ ہفتہ ہندوپاک کے دورہ پر پہنچ رہے ہیں اور اس سے قبل اس بیان کو اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے کیونکہ عہدیدار نے جو کچھ بھی کہا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ ، کی جنوبی ایشیاء کی نئی پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا ہے ۔اعلیٰ سطحی عہدیدار نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی جہاں اُن سے پوچھا گیا تھا کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کی برقراری کیلئے ہندوستان کیا رول ادا کرسکتا ہے ۔خصوصی طورپر پاکستان کے ساتھ ۔ مذکورہ عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ مودی جو جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں لیکن وہ خود اپنی سکیورٹی کی قیمت پر پاکستان کے ساتھ یہ امن مذاکرات نہیں کرسکتے لہذا اب پاکستان کے ساتھ امن بات چیت کا انعقاد مودی جی کے فیصلہ پر منحصر ہے ۔ ہم خود یہی چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک بات چیت کریں۔ اعتماد سازی بہت ضروری ہے جو صرف بات چیت کے ذریعہ ہی پیدا ہوسکتی ہے ۔ اس طرح ہم اس خطّہ میں پائیدار امن کو یقینی بناسکتے ہیں کیونکہ قیام امن کے بعد ہی دونوں ممالک خوشحالی کی ایک ایسی سطح پر پہنچ جائیں گے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے ۔

TOPPOPULARRECENT