پاکستان میں اپنی رہائی کے بعد حافظ سعید جہادی پروگرام کی تکمیل کیلئے سرگرم

لاہور ۔ 18 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) جماعت الدعوہ کے سربراہ اور ممبئی حملہ کے کلیدی سازشی حافظ سعید اپنے جہادیوں ایجنڈہ پر سرگرمی سے عمل پیرا ہیں۔ اپنی رہائی کے بعد انہوں نے اپنے ایجنڈہ پر عمل شروع کردیا ہے۔ انہوں نے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلہ کے خلاف ایک احتجاجی جلسہ سے خطاب کیا۔ لشکرطیبہ کے بانی کے سر پر 10 ارب امریکی ڈالر کا انعام مقرر ہے۔ انہوں نے کہاکہ یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان ایک صلیبی جنگ سے کم نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ ہے۔ یہودی لابی کا اگلا نشانہ مسلمانوں کے مقدس مقامات سعودی عرب کے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت پر نظر رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام خود یہ مسئلہ اٹھا سکتے ہیں۔ آج عالم اسلام کو صلاح الدین ایوبی جیسے ایک قائد کی ضرورت ہے جو بارہویں صدی عیسوی کا فوجی کمانڈر تھا جس نے صلیبی ممالک کے خلاف اسلامی جہاد کی قیادت کی تھی۔ جاریہ ماہ کے اوائل میں صدرامریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا ۔حافظ سعید نے ایک بار پھر کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ان کی تائید ہمیشہ جاری رہے گی حالانکہ کشمیریوں کو کسی تائید کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ نے ان کی دوبارہ گرفتاری اور مقدمہ چلانے کیلئے زور دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT