Sunday , February 18 2018
Home / دنیا / پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ناقابل برداشت

پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ناقابل برداشت

 

٭ افغانستان : امریکی کوششیں رائیگاں، 2000 فوجی ہلاک
٭ طالبان اور حقانی نیٹ ورک ہنوز سرگرم
٭ ہندوستان ،افغانستان کی تعمیر نو میں شامل
٭ نامزد نائب وزیر دفاع امریکہ جان سی روڈ کا بیان

واشنگٹن۔17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے آج ایکبار پھر اپنا وہی پرانا راگ الاپتے ہوئے پاکستان کو انتباہ دیا ہے کہ وہ (امریکہ) پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ لہذا اگر پاکستانی حکام کو یہ پیغام مل جائے تو بہتر ہوگا۔ انڈر سکریٹری آف ڈیفنس برائے پالیسی کے لیے نامزد جان سی روڈ نے یہ بات کہی۔ یاد رہے کہ امریکہ عرصۂ دراز سے پاکستان پر یہ الزام عائد کرتا آیا ہے کہ اس نے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کررکھی ہیں جس کی پاکستان نے ہمیشہ تردید کی۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی کبھی پیٹھ تھپتھپائی جاتی ہے اور کبھی اسے شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبکہ دنیا جانتی ہے کہ خود پاکستان بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اور اکثر و بیشتر دہشت گرد حملے عام شہریوں کے لیے بھی وبال جان بن چکے ہیں۔ پشاور کے ملٹری اسکول میں ہوئے دہشت گرد حملوں کو بھلا کون بھول سکتا ہے جس میں زائد از 150 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثریت طلباء کی تھی۔ تاہم اگر ہم مسٹر روڈ کے بیان کا جائزہ لیں تو موصوف کا یہی کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں سے عمداً چشم پوشی کررہا ہے جس کے بعد افغانستان میں امریکہ جو بھی کوششیں کررہا ہے وہ ناکام ثابت ہورہی ہیں اور اس کے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آرہے ہیں۔ اپنی تصدیقی سماعت کے دوران روڈ نے کہا کہ پاکستان کو ہم یہ واضح طور پر کہہ دینا چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں کو جس نوعیت کا تعاون فراہم کیا جارہا ہے، امریکہ اسے ہرگز برداشت نہیں کرسکتا کیوں کہ اس کی وجہ سے افغانستان میں ہماری کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں اور امریکی فوجی جو وہاں تعینات ہیں، انہیں بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے جبکہ 2000 امریکی فوجی ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔ روڈ نے سینئر جان میک کین کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی جو سنیٹ آرمڈ سرویسس کمیٹی کے صدرنشین ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی پشت پناہی کررہا ہے جس سے امریکہ کی تمام تر کوششیں ضائع ہورہی ہیں۔ یہ مسئلہ گزشتہ 16 سال سے موجود ہے جس کی ہنوز یکسوئی نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے امریکہ کی نئی حکمت عملی کا بھی تذکرہ کیا جس کے تحت افغانستان کی تعمیر نو اور افعان حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے ہندوستان کی خدمات بھی طلب کی گئی ہے۔ لہٰذا امریکہ کے علاوہ ایک اور اہم ترین شراکت دار کو اس معاملہ سے اگر کہا جائے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ صرف کچھ ماہ قبل میک کین نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان میں ان کے بے شمار دوست ہیں جن کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات ہیں تاہم ایک ایسا وقت بھی آگیا ہے یہاں ہمیں ان دوستوں سے یہ کہنا پڑے گا کہ وہ یا تو دوستی برقرار رکھیں یا فرائض۔ دنیا جانتی ہے کہ فرض کا پلہ ہمیشہ بھاری ہوتا ہے اور اب ہمیں انتہائی پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے جسے ہم نے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے اور ہمیں اب پاکستان کو یہ کہنے میں بھی کوئی کوتاہی نہیں ہوگی کہ بھائی یا تو آپ ہماری مدد کیجئے یا پھر ہم اپنے تعلقات میں ہی تبدیلی کرنی پڑے گی۔ قبل ازیں مسٹر روڈ نے سنیٹ آرمڈ سرویسس کمیٹی کو ایک تحریری جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے لیے پاکستان کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم رکھنا بہت اہم ہے کیوں کہ اسی سے امریکی مفاد وابستہ ہے تاہم امریکہ کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ پاکستان بھی اپنی نیوکلیئر توانائی کو توسیع دے رہا ہے اور دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کررہا ہے جو امریکہ کے لیے یقینا باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو تباہ و تاراج کرنے کے طریقوں پر بھی غور و خوص کریں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ امریکی صدر نے جاریہ سال جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کرکے مشرق وسطی کے دورہ کا آغاز کیا تھا جس کے بعد ہی قطر کا سفارتی بحران شروع ہوا تھا اور اب موصوف ایشیائی ممالک کے 12 روزہ دورہ سے واپس آئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کے کس مسلم ملک میں کونسا بحران پیدا ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT