Thursday , January 18 2018
Home / Top Stories / پاکستان میں عسکریت پسند حملہ، 47 افراد ہلاک، 20 زخمی

پاکستان میں عسکریت پسند حملہ، 47 افراد ہلاک، 20 زخمی

کراچی۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی شہر کراچی میں مسلح افراد نے جو پولیس وردی میں ملبوس تھے، آج شیعہ اسمعیلیہ مسلمانوں کو لے جانے والی ایک بس پر حملہ کردیا اور اس میں سوار افراد کے سروں پر گولی مار دی، جس کے نتیجہ میں کم سے کم 47 افراد ہلاک ہوگئے۔ حملہ آوروں نے آئی ایس آئی ایس کے پمفلٹس چھوڑ کر فرار ہوگئے جن (پمفلٹس) کے ذریعہ آئی ایس آ

کراچی۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی شہر کراچی میں مسلح افراد نے جو پولیس وردی میں ملبوس تھے، آج شیعہ اسمعیلیہ مسلمانوں کو لے جانے والی ایک بس پر حملہ کردیا اور اس میں سوار افراد کے سروں پر گولی مار دی، جس کے نتیجہ میں کم سے کم 47 افراد ہلاک ہوگئے۔ حملہ آوروں نے آئی ایس آئی ایس کے پمفلٹس چھوڑ کر فرار ہوگئے جن (پمفلٹس) کے ذریعہ آئی ایس آئی ایس نے اس وحشیانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پولیس عہدیداروں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ 6 تا 8 حملہ آور جو موٹر سیکلوں پر سوار تھے، ڈاؤ میڈیکل کالج کے قریب پہلے بس کو فائرنگ کا نشانہ بنایا اور جب یہ بس کراچی میں صفورہ چورنگی کے گلستانِ جوہر علاقہ میں رک گئی، وہ تیزی کے ساتھ اس بس میں گھس پڑے اور مسافرین کو وحشیانہ فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ حملہ آوروں نے بشمول 16 خواتین 47 افراد کو ہلاک اور دیگر 20 کو زخمی کرنے کے بعد فرار ہوگئے۔ سندھ کے پولیس انسپکٹر جنرل غلام حیدر جمالی نے کہا کہ ’’یہ نشانہ بنا کر کیا جانے والا حملہ تھا‘‘۔ مہلوکین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ امدادی کارکنوں نے مہلوکین کی نعشوں کے علاوہ زخمیوں کو شہر کے مختلف دواخانوں کو منتقل کردیا ہے۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ حملہ آوروں نے بس میں گھس کر مسافرین کے سروں پر گولی مار دی۔ مقام واقعہ پر دستیاب ایک خون آلود پمفلٹ میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم حکومت نے تاحال کسی بھی گروپ کے نام کا اعلان نہیں کی ہے۔ بلوچستان میں سرگرم عسکریت پسند گروپ جنداللہ نے بھی اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ایک امدادی کارکنوں نے زخمیوں کے حوالے سے کہا کہ حملہ آور، پولیس وردی میں ملبوس تھے۔ غلام حیدر جمالی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہیکہ مسلح افراد نے قتل عام کے اس واقعہ میں 9 ایم ایم کی پستول استعمال کیا ہے۔ اس مقام پر پستول اور کلاشنکوف کی گولیوں کے خالی کھوکے دستیاب ہوئے ہیں۔ صوبہ سندھ کے شکارپو میں جنوری کے دوران ایک خودکش بمبار نے اقلیتی شیعہ مسلمانوں کی مسجد کو نشانہ بناتے ہوئے خطرناک حملہ کیا تھا، جس کے نتیجہ میں 61 مصلیان اور قریب موجود افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد آج کا دوسرا بڑا دہشت گرد حملہ ہے۔ ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ یہ بس الازہر گارڈن کی تھی۔ یہ ادارہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو اسمعیلیہ برادری کو اس حملہ کے مقام سے قریب واقع علاقہ میں کم قیمت پر امکنہ فراہم کرتی ہے۔

علاوہ ازیں مفت ٹرانسپورٹ خدمات پہنچاتی ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’ بس میں سوار اکثر افراد ملازمتوں یا چھوٹے کاروباروں کیلئے سٹی سنٹر جارہے تھے۔ ان میں اکثر چھوٹے تاجر اور ملازمین تھے۔ اسمعیلیہ برادری بھی شیعہ فرقہ کا ایک حصہ ہے۔ یہ برادری اسلام کے ترقی پسند نظریات پر عمل آوری کیلئے شہرت رکھتی ہے۔ اس حملے کے فوری بعد پولیس اور رینجرس مقام واردات پر پہنچ گئے اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔ نواز شریف نے اس واقعہ پر حکام سے ابتدائی رپورٹ طلب کی ہے۔ یہ حملہ نواز شریف کے دورہ کابل کے دوسرے دن ہوا ہے۔ انہوں نے کابل میں کہا تھا کہ افغانستان کے دشمن دراصل پاکستان کے دشمن بھی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ڈائرکٹر جنرل نے ٹوئیٹر پر لکھا ہیکہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس حملے کے بعد اپنا تین روزہ دورہ سری لنکا منسوخ کردیا ہے۔ سندھ کے چیف منسٹر سید قاسم علی شاہ نے اس واقعہ کو ’’دہشت گرد حملہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ خاطیوں کو گرفتار کیا جائے گا اور انہیں انصاف کے کٹھہرے میں لاکھڑا کیا جائے گا۔ انہوں نے مہلوکین کے خاندانوں کو فی کس 500,000 لاکھ دینے اور زخمیوں کے مفت علاج کا اعلان کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صدرنشین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان تحریک انصاف کے صدر عمران خاں نے بھی اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ اسلام آباد سے موصولہ اطلاع کے بموجب امریکہ اور اقوام متحدہ نے شیعہ اسمعیلی مسلمانوں پر عسکریت پسند حملہ کی شدید مذمت کی۔ اقوام متحدہ کے رابطہ کار برائے پاکستان جیکوئی بیٹکوک نے اس کی اطلاع دی۔ امریکی سفیر برائے پاکستان رچرڈ اولسن نے مہلوکین کے ورثا سے اظہارتعزیت کرتے ہوئے اس حملہ کو بے حس حملہ قرار دیا۔

کراچی حملے، وزیراعظم مودی کا اظہار مذمت
نئی دہلی ۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج کراچی میں ہوئے ایک حملے کی مذمت کی، جس میں اقلیتی شیعہ طبقہ کو نشانہ بنایا یگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدمہ کی اس گھڑی میں ہندوستان پوری طرح پاکستان کے عوام کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کراچی پر حملہ سخت افسوسناک اور انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہماری ہمدردیاں اس واقعہ کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں‘‘۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’’صدمہ کی اس گھڑی میں ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔ تمام زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے میں اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں‘‘۔ واضح رہیکہ کراچی میں 8 بندوق برداروں نے ایک بس میں گھس کر اندھادھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجہ میں اقلیتی شعبہ اسمعیلیہ طبقہ کے41 افراد ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوگئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT