Monday , June 25 2018
Home / پاکستان / پاکستان میں عیسائی جوڑے کو زندہ جلانے والے ملزمین کیخلاف فردجرم

پاکستان میں عیسائی جوڑے کو زندہ جلانے والے ملزمین کیخلاف فردجرم

لاہور ۔ 24 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے صوبہ پنجاب میں قرآن مجید کی (نعوذ باللہ) مبینہ بے حرمتی کے واقعہ پر ایک عیسائی جوڑے کو زندہ جلادیئے جانے کے الزام کے تحت چلائے جانے والے مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی پاکستانی عدالت نے 59 ملزمین کے خلاف فردجرم عائد کیا ہے جن میں دو علمائے دین اور چار خواتین بھی شامل ہیں۔ واضح رہیکہ گذشتہ سال 4 نومبر کو مسلمانوں کے ایک برہم ہجوم نے 35 سالہ شہزاد مسیح اور اس کی 31 سالہ حاملہ بیوی صائمہ عرف شمع کو بری طرح پیٹنے کے بعد اینٹوں جھلستی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا تھا۔ اس عیسائی جوڑے پر گذشتہ سال 4 نومبر کو قرآن مجید کی مبینہ بے حرمتی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ یہ المناک واقعہ ضلع فصور کے علاقہ کوٹ رادھاکشن میں پیش آیا تھا۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’لاہور میں واقع اس عدالت کے جج ہارون لطیف نے آج 59 ملزمین پر فردجرم عائد کیا جن میں دو علمائے دین، چار خواتین اور اینٹوں کی بھٹی کا مالک بھی شامل ہے۔ ان پر عیسائی جوڑے کو زندہ جلانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دیگر 9 ملزمین کو عدالتی تحویل میں دیدیا گیا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ’’چند ملزمین نے الزامات کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے چنانچہ جج نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی ہیکہ آئندہ سماعت میں گواہوں کو پیش کیا جائے۔ اس مقدمہ کی سماعت 2 جنوری تک ملتوی کی گئی ہے۔ پاکستانی انسانی حقوق کمیشن میں حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق قرآن پاک کی بے حرمتی کا قطعی کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ رپورٹ نے کہا کہ اینٹوں کی بھٹی کے مالک سے اجرت کی وصولی کے ضمن میں شہزاد مسیح کا تنازعہ جاری تھا۔

TOPPOPULARRECENT