Thursday , November 23 2017
Home / اداریہ / پاکستان میں قتل و خون کا بازار

پاکستان میں قتل و خون کا بازار

کوئی سمجھتا نہیں پیار کا بھی لہجہ اب
ذرا سی بات ہوئی اور بگڑنے لگتے ہیں
پاکستان میں قتل و خون کا بازار
قتل و خون و غارت گری ویسے تو ساری دنیا میں عام ہوتی جا رہی ہے ۔ لوگ اپنے نظریات اور احساسات میں اتنے سخت گیر ہوتے جا رہے ہیں کہ دوسروں کا وجود ہی انہیں ناقابل برداشت لگتا جا رہا ہے ۔ ایک دوسرے کا خون بہانا اب آسان ترین عمل ہوگیا ہے اور اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔ خاص طور پر پاکستان میں ایسے واقعات میں انتہائی تشویشناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ آئے دن کسی نہ کسی شخصیت کو کسی نہ کسی اختلاف کی وجہ سے قتل کیا جا رہا ہے ۔ نشانہ بناکر قتل کرنے کے واقعات روز مرہ کی زندگیوںکا حصہ بنتے جا رہے ہیں اور یہ انسانیت سوز عمل ہے ۔ کسی سماجی مصلح کو کبھی گولی ماردی جاتی ہے تو کبھی کسی رکن پارلیمنٹ کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ کبھی کسی مذہبی لیڈر کو اپنے اختلاف رائے کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے تو کبھی کسی سیاسی لیڈر کو گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے ۔ عوامی مقامات پر خود کش بم دھماکے اور حملے کرتے ہوئے معصوم افراد کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسے معاشرے اور ملک میں کیا جا رہا ہے جو اسلام سے اپنے آپ کا تعلق ظاہر کرتا ہے ۔ ایسے تمام واقعات کا مذہب اسلام سے یا مذہب اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کو ئی مثال دی جاسکتی ہے ۔ پاکستان میں کل صوفی قوال امجد صابری کو دن دھاڑے گاڑی روک کر قتل کردیا گیا اور تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ چاہے یہ قتل طالبان نے کیا ہو یا کسی اور گروپ نے کیا ہو اس کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ طالبان اگر کسی کو قتل کرتے ہیں تو یہ قتل جائز نہیں ہوجاتا یا کسی دوسرے گروپ کی جانب سے قتل کا کوئی جواز پیش کیا جائے تو اس کی بھی مدافعت نہیں کی جاسکتی کیونکہ قتل و غارت گری کسی بھی مہذب سماج میں قابل قبول رہی تھی اور نہ ہوسکتی ہے ۔ جو بھی قتل و غارت گری کے جواز و اسباب فراہم کئے جاتے ہیں وہ سب کچھ ناقابل قبول ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے ہوتے ہیں۔ ان کے اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے مذہب کی آڑ لی جا رہی ہے اور اس کا سلسلہ ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔
ہم ایسے مہینے سے گذر رہے ہیں جو رحمتوں اور برکتوں کے حصول والاہے اور ایسے مہینے میں قتل و خون اور غارت گری وہ بھی مذہب کے نام پر انتہائی نا مناسب عمل ہے ۔ اسلام نے ہم کو ماہ رمضان المبارک کا اہتمام کرنے ‘ اس کا احترام کرنے اور اسکی تعظیم کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس مہینے میں روزہ کے دوران آپ خود اپنے ناخن نہیں نکال سکتے لیکن ایک انسان کو سر عام قتل کیا جا رہا ہے ۔ فائرنگ کی جا رہی ہے ۔ بم دھماکے کئے جا رہے ہیں۔ بے قصور خواتین و بچوں کو بھی اس طرح کے حملوں کے ذریعہ نشانہ بنایا جارہاہے اور انہیں بھی موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ ایسی کارروائیوں کے ذریعہ کئی گھر اجڑ رہے ہیں۔ سینکڑوں خواتین کی گود اجڑ رہی ہے ۔ کئی خواتین کا سہاگ اجڑ رہا ہے ۔ کئی بچے یتیمی و یسیری کی زندگیاں گذارنے اور در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں ۔ مسلم سماج دنیابھر میں تماشہ اور عبرت کا مقام بنتا جا رہا ہے اس کے باوجود ہم اپنی منطق اور اپنی مطلب براری سے دنیا کو دیکھنے ‘ سوچنے اور برتنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ اپنی رائے دوسروں پر ٹھونسنے اور مسلط کرنے کا جو طریقہ کار معمول کا حصہ بنتا جا رہا ہے وہ سماج کیلئے ناسور سے کم نہیں ہے ۔ مذہب اسلام نے دوسروںکو عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے راغب کرنے اور مذہب اسلام کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا ہے لیکن آج ہم ایسے عمل دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں کہ وہ نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ مذہب اسلام سے متنفر ہوتے جا رہے ہیں اور اس کے ذمہ دار خود مسلمان بنتے جا رہے ہیں۔
بندوق برداروں کی کارروائیاں پاکستان میں خاص طور پرعام ہوتی جا رہی ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نظر نہیں آتا ۔ گذشتہ دنوں سماجی مصلح خرم ذکی کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں گولیوں سے چھلنی کردیا گیا کیونکہ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ طالبان کے خلاف رائے رکھتے تھے ۔ اسی طرح ایک اور سماجی جہد کار سبین محمود کو اس وقت گولی ماردی گئی جب وہ اپنی کار میں کہیں جا رہی تھیں ۔ حکومت اور پولیس کی جانب سے بندوق برداروں اور تخریب کاروں کے خلاف کارروائیوں کے بلند بانگ دعووں کے باوجود ایسے واقعات کاسلسلہ چلتا جا رہا ہے اور اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ مذہب اسلام کی بھی رسوائی ہو رہی ہے ۔ اسلام کے نام پر ایسی کارروائیوں کا بھی کوئی جواز نہیں ہوسکتا اور ایسا کرنے والوں کو بھی اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT