Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / پاکستان میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر فیکٹری نذر آتش

پاکستان میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر فیکٹری نذر آتش

اسلام آباد ۔ 21 نومبر۔(سیاست ڈاٹ کام) صوبہ پنجاب کے شہر جہلم میں اسمال انڈسٹریل اسٹیٹ کے عقب میں واقع ایک چِپ بورڈ بنانے والی فیکٹری میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کی اطلاعات گردش کرنے لگیں جس پر پولیس کی جانب سے واقعے میں ملوث ہونے کے شبہ میں 5 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے 4 کو بعدازاں رہا کردیا گیا۔ سینیئر پولیس افسر عدنان ملک نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں فیکٹری کے سکیورٹی ہیڈ قمر احمد طاہر کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق فیکٹری کے ایک ملازم نے بتایا کہ ملزم طاہر نے فیکٹری کے بوائلر میں قرآن پاک کے اوراق نذر آتش کرنے کی نگرانی کی اور اس حرکت کو روکے جانے پر مداخلت بھی کی۔پولیس کے مطابق ملزم طاہر کے خلاف توہین مذہب کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا، جس کا تعلق احمدی کمیونٹی سے ہے۔ دوسری جانب مقامی احمدی کمیونٹی کے ترجمان سلیم الدین نے بتایا کہ ان کی کمیونٹی کے 3 افراد کو حالیہ واقعے کے تناظر میں گرفتار کیا گیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو پولیس نے مبینہ طور پر قرآن پاک کے اوراق نذر آتش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ واقعے کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر مساجد سے اعلان کرائے گئے اور اطراف کے 4، 5 گاؤں کے لوگ ایک ہجوم کی صورت میں جمع ہوگئے اور انھوں نے مذکورہ فیکٹری اور اس سے ملحق فیکٹری مالک کے گھر کو بھی آگ لگا دی۔تاہم فیکٹری مالک اور دیگر ملازمین فیکٹری سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کے شیلز فائر کیے جبکہ مشتعل افراد کی جانب سے بھی ہوائی فائرنگ کی گئی، اس دوران 3 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم پولیس حالات پر قابو پانے میں ناکام رہی.ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر آفیسر (ڈی سی او) مجاہد اکبر خان موقع پر پہنچے تاہم مشتعل ہجوم سے مذاکرات میں ناکام رہے۔بعد ازاں فوج کو طلب کیا گیا اور تقریباً 6 گھنٹے بعد جی ٹی روڈ کو ٹریفک کے لئے بحال کردیا گیا، جبکہ راولپنڈی اور دیگر اضلاع سے بھی پولیس کی نفری کو علاقے میں تعینات کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT