Thursday , January 18 2018
Home / Top Stories / پاکستان میں مزید نو قیدیوں کو پھانسی

پاکستان میں مزید نو قیدیوں کو پھانسی

اسلام آباد ۔ 18 مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عزم مصمم کرلیا ہے کہ وہ سزائے موت پانے والے تمام قیدیوں کو یکے بعد دیگرے تختۂ دار پر چڑھادے گا ۔ کل 12 قیدیوں کو پھانسی پر لٹکانے کے بعد آج مزید نو قیدیوں کو پھانسی پر لٹکادیا گیا ۔ پاکستان کے اس اقدام پر دائیں بازو کے گروپس کے ذریعہ تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ پنجا

اسلام آباد ۔ 18 مارچ۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عزم مصمم کرلیا ہے کہ وہ سزائے موت پانے والے تمام قیدیوں کو یکے بعد دیگرے تختۂ دار پر چڑھادے گا ۔ کل 12 قیدیوں کو پھانسی پر لٹکانے کے بعد آج مزید نو قیدیوں کو پھانسی پر لٹکادیا گیا ۔ پاکستان کے اس اقدام پر دائیں بازو کے گروپس کے ذریعہ تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ پنجاب کی مختلف جیلوں بشمول لاہور ، فیصل آباد ، راولپنڈی ، جھنگ اور میانوالی ایسے مقامات ہیں جہاں قیدیوں کی سزائے موت پر عمل آوری کی گئی ۔ کل جن 12 قیدیوں کو پھانسی دی گئی تھی انھیں مختلف عسکریت پسندی اور قتل کے معاملات میں ملوث پائے جانے پر سزائے موت دی گئی اور یہ اُس وقت ممکن ہوسکا ہے جب حکومت نے سزائے موت پر عائد امتناع کو برخاست کیا تھا اور تب سے اب تک پھانسی پر چڑھائے جانے والے قیدیوں کی تعداد 48 ہوگئی ۔ علاوہ ازیں 8000 مزید قیدی ہیں جو سزائے موت پر عمل آوری کے منتظر ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ قبل ازیں صرف ایسے مجرمین کے لئے سزائے موت تفویض کی جاتی تھی جو دہشت گردی میں ملوث پائے جاتے تھے تاہم 10 مارچ کو حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کے علاوہ دیگر جرائم میں ملوث قیدیوں کو بھی سزائے موت ہی دی جائے گی ۔ سزائے موت کی تائید کرنے والوں کا ادعا ہیکہ صرف ایسی سزاؤں کے ذریعہ ہی دہشت گردی کی روک تھام کی جاسکتی ہے جبکہ انسانی حقوق گروپس سزائے موت کو غیرانسانی فعل سے تعبیر کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ سزائے موت پانے والے بیشتر مجرمین کو اذیتیں دی جاتی ہیں اور انھیں اُن جرائم کا اعتراف بھی کروایا جاتا ہے جن کا انھوں نے کبھی ارتکاب کیا ہی نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT