Thursday , September 20 2018
Home / دنیا / پاکستان میں مزید 12 قیدیوں کو پھانسی دیدی گئی

پاکستان میں مزید 12 قیدیوں کو پھانسی دیدی گئی

اقوام متحدہ 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام)پاکستان نے آج عسکریت پسندی اور قتل جیسے سنگین معاملات میں ملوث ایسے 12قیدیوں کی سزائے موت پر عمل آوری کی جنہیں عرصہ قبل سزائے موت سنائی گئی تھی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے گذشتہ سال پشاور کے ملٹری اسکول میں ہوئے حملہ اور زائد از 150 طلباء کی ہلاکت کے دلسوز واقعہ کے بعد پاکستان میں سزائے موت پر عائد امتنا

اقوام متحدہ 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام)پاکستان نے آج عسکریت پسندی اور قتل جیسے سنگین معاملات میں ملوث ایسے 12قیدیوں کی سزائے موت پر عمل آوری کی جنہیں عرصہ قبل سزائے موت سنائی گئی تھی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے گذشتہ سال پشاور کے ملٹری اسکول میں ہوئے حملہ اور زائد از 150 طلباء کی ہلاکت کے دلسوز واقعہ کے بعد پاکستان میں سزائے موت پر عائد امتناع کو برخاست کردیا تھا اور تب سے لیکر آج تک ایک ہی دن میں بارہ قیدیوں کو پھانسی پر لٹکادینے کا اپنی نوعیت کا یہ انوکھا واقعہ ہے جنہیں جھنگ ‘کراچی ‘لاہور ‘راولپنڈی‘ملتان ‘میانوالی ‘فیصل آباد اور گوجر انوالہ میںواقع مختلف جیلوں میں سزائے موت دی گئی اور اس طرح اب پاکستان میں پھانسی پر لٹکائے گئے قیدیوں کی جملہ تعداد 39 ہوگئی جبکہ ملک میںمزید 8000 قیدی ایسے ہیں جو اپنی سزائے موت پر عمل آوری کے منتظر ہیں۔ قبل ازیں سزائے موت صرف دہشت گردی میں ملوث افراد کیلئے مختص کی گئی تھی تاہم 10 مارچ کو حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی جرم کے ارتکاب میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کو پھانسی پر لٹکادیا جائے گا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں 2008 میں جمہوری حکومت کے قیام کے بعد سزائے موت پر عمل آوری پر امتناع عائد کیا گیا تھا۔ سزائے موت کے حامیوں کا یہ کہنا ہے کہ صرف اس طرح ہی بھیانک اور انسانیت سوز جرائم کی روک تھام کی جاسکتی ہے جبکہ انسانی حقوق گروپس سزائے موت کو غیر انسانی فعل سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی سخت مخالف ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں فوجداری انصاف کا طریقہ کار لا اعتبار ہے جہاں کبھی کبھی بے قصور افراد کو اذیتیں دیکر ان سے ایسے جرائم کا اعتراف کروایا جاتا ہے جس کے وہ کبھی مرتکب ہوئے ہی نہیں۔

TOPPOPULARRECENT