Thursday , April 26 2018
Home / پاکستان / پاکستان میں مشرف کے عظیم اتحاد میں دوسرے ہی دن انتشار

پاکستان میں مشرف کے عظیم اتحاد میں دوسرے ہی دن انتشار

پاکستان عوامی تحریک اور مجلس وحدت مسلمین کا اتحاد میں شرکت سے انکار ‘ مشرف کا صدر مقرر کئے جانے پر اظہار تشکر

اسلام آباد ۔ 12نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو دھکہ پہنچا جب کہ کئی پارٹیوں نے اپنے آپ کو اُن کے عوامی اتحاد سے الگ کرلیا جب کہ اس عظیم اتحاد کے قیام کا ایک دن پہلے ہی اعلان ہوا تھا اور اس میں 23پارٹیاں شامل تھیں ۔ اتحاد میں شریک دو سیاسی پارٹیاں پاکستان عوامی تحریک اور مجلس وحدت مسلمین نے اس اتحاد کا جس کی قیادت مشرف کررہے ہوں حصہ بننے سے انکار کردیا ۔ روزنامہ دی نیوز کی اطلاع کے بموجب ذرائع ابلاغ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ جمعہ کے دن دبئی سے خطاب کرتے ہوئے 74سالہ سابق صدر نے کہا تھا کہ تمام پارٹیاں جو مہاجر برادری کی نمائندگی کرتے ہیں متحد ہوجائیں گی ۔ مشرف خود بھی ایک مہاجر ہیں ‘ انہوں نے گذشتہ سال مارچ میں پاکستان سے دبئی کا سفر کیا تھا ۔ جب کہ وزارت داخلہ نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول فہرست سے حذف کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ مہاجرین اردو داں افراد ہے جو ہندوستان سے تقسیم کے دوران ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہوئے تھے ۔ عظیم اتحاد کا نام پاکستانی عوامی اتحاد رکھا گیا تھا جس کے صدر مشرف تھے ۔ جب کہ اقبال ڈار کو سکریٹری جنرل مقرر کیا گیا تھا ۔ پاکستان عوامی تحریک نے کل اس اتحاد سے دوری اختیار کرلی اور اس کے فوری بعد مجلس وحدت مسلمین نے بھی اتحاد کا حصہ بننے سے انکار کردیا ۔ روزنامہ نے مجلس وحدت المسلمین کے ذرائع کے حوالہ سے خبر دی گئی ہے کہ کسی سے بھی مشورہ نہیں کیا گیا جو اس عظیم اتحاد کے بارے میں ہوتا اور نہ ہمارے قائدین نے سیاسی انتخابی اتحاد کے کسی اجلاس میں شرکت کی ۔ سنی اتحاد کونسل کے صدر نشین صاحبزادہ حامد رضا نے بھی وضاحت کی کہ ان کی پارٹی عوامی اتحاد انتخابی اتحاد کی تائید میں نہیں ہے ۔ انتخابات مشرف کے بموجب عظیم اتحاد کے پلیٹ فارم سے اہل سنت پارٹیاں یعنی نظام مصطفیٰ ‘ متحدہ محاذ حصہ لیں گے ۔ مشرف نے عظیم اتحاد کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں اس کا صدر نشین مقرر کیا گیا ہے اور وہ جلد ہی پاکستان واپس آئیں گے کیونکہ پاکستان کے حالات اب بہتر ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT