Saturday , December 16 2017
Home / پاکستان / پاکستان میں 2013 کے پارلیمانی انتخابات بد عنوانیوں سے پاک

پاکستان میں 2013 کے پارلیمانی انتخابات بد عنوانیوں سے پاک

عدالتی کمیشن کی رپورٹ ۔ وزیر اعظم نواز شریف کو بڑی راحت ۔ حکومت کو استحکام کی امید ‘ عمران خان نے فیصلہ قبول کرلیا

اسلام آباد 23 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کیلئے ایک بڑی راحت میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہوئی اعلی سطحی کی تحقیقات میں ان کی پارٹی کو 2013 کے پارلیمانی انتخابات میں بدعنوانیوں کے الزام سے بری کردیا گیا ہے ۔ ان انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کو کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ عدالتی کمیشن کی تشکیل اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی جانب سے پی ایم ایل پر بدعنوانیوں کے الزامات کی تحقیقات کرنے کیلئے عمل میں لائی گئی تھی ۔ اس تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ انتخابات بڑے پیمانے پر منظم تھے اور غیر جانبدارانہ انداز میں قانون کے مطابق منعقد ہوئے ہیں۔ کمیشن نے رپورٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کچھ خامیوں کے باوجود کمیشن کے پاس ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ انتخابات غیر جانبدارانہ اور منصفانہ نہیں تھے ۔ ایکسپریس نیوز میں یہ بات بتائی گئی ۔ کہا گیا ہے کہ رائے دہندوں نے پوری آزادی کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا اور ان کی رائے پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکا ہے ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جو الزامات عائد کئے گئے ہیں کہ ان انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی تھی

اور حکمت عملی بنائی گئی تھی وہ بھی ثابت نہیں کئے جاسکے ہیں اور ان کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ۔ حکومت اور کرکٹر سے سیاستداں بننے والے عمران کی قیادت والی پاکستان تحریک انصاف کے مابین طئے پائے ایک معاہدہ کے تحت تحقیقات کا جاریہ سال اپریل میں آغاز ہوا تھا ۔ عمران خان نے حکومت کے خلاف انتخابات میں بدعنوانیوں اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا تھا جو بعد میں پرتشدد بھی ہوگیا تھا ۔ ان انتخابات میں کامیابی کے ذریعہ ہی نواز شریف تیسری معیاد کیلئے وزیر اعظم بنے تھے ۔ 272 رکنی قومی اسمبلی میں انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کو 129 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کو 35 نشستوں پر کامیابی ملی تھی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے صدر نشین عمران خان نے کہا کہ وہ تحقیقاتی کمیشن کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں تاہم وہ اس کی رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی رد عمل کا اظہار کرینگے ۔ عمران خان کو پہلی مرتبہ اتنی نشستوں پر کامیابی ملی تھی ۔ انہوں نے انتخابات کے بعد کہا تھا کہ منظم انداز میں ہوئی بدعنوانیوں کی وجہ سے انہیں کئی نشستوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی قیادت والی سہ رکنی ججس کی ٹیم نے اپنی تحقیقات جاریہ مہینے کے اوائل میں مکمل کی تھیں اور گذشتہ رات اس نے اپنی 300 صفحات پر مشتمل رپورٹ حکومت کو پیش کردی تھی ۔ اس دوران نواز شریف کے چھوٹے بھائی و چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ تحقیقات میں کسی دھوکہ کا امکان مسترد کردیا گیا ہے تاہم قوم کو ابھی بھی سٹ ان اور دیگر احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہ احتجاج بھی وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بدعنوانیوں کا الزام عائد کیا تھا ۔وزیر اعظم نے اس رپورٹ پر سینئر رفقائے کار اور پارٹی قائدین کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور سمجھا جارہا ہے کہ وہ قوم سے خطاب بھی کرنے والے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹ نوآز شریف حکومت کیلئے اخلاقی کامیابی ہے اور اس سے ان کی حکومت کو استحکام حاصل ہوگا ۔ حکومت اور تحریک انصاف کے مابین طئے پائے معاہدہ میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر انتخابات میں منظم انداز میں بے قاعدگیوں کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو نواز شریف اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں گے اور تازہ انتخابات کی سفارش کرینگے ۔ عمران خان نے پہلے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت آزادانہ تحقیقات کا آغاز کرے اور اس کیلئے انہوں نے ماہ اگسٹ 2014 میں احتجاج بھی شروع کیا تھا ۔ ان کے ہزاروں حامیوں نے پارلیمنٹ کے روبرو سٹ ان احتجاج کیا تھا جو تقریبا چار مہینوں تک جاری رہا ۔

TOPPOPULARRECENT