Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / پاکستان نے قومی سلامتی مشیران کی ملاقات منسوخ کردی

پاکستان نے قومی سلامتی مشیران کی ملاقات منسوخ کردی

٭     شرائط کی بنیاد پر مذاکرات بے معنی ہونگے ۔ دفتر خارجہ کا بیان
٭     ہندوستان کو یکطرفہ طور پر بات چیت کا ایجنڈہ طئے کرنے کا حق نہیں
٭     کشمیر اور علیحدگی پسندوں سے ملاقات پر ہندوستان کے عملا الٹی میٹم پر رد عمل

اسلام آباد 22 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) تعطل کو ختم کرتے ہوئے پاکستان نے آج ہندوستان و پاکستان کے مابین قومی سلامتی مشیران کی بات چیت کو منسوخ کردیا ہے ۔ ہندوستان نے چند گھنٹوں قبل ہی واضح کیا تھا کہ قومی سلامتی مشیران کے اجلاس میں نہ کشمیر کے مسئلہ پر بات چیت ہوگی اور نہ ہی پاکستانی قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز کی کشمیری علیحدگی پسندوں سے ملاقات قابل قبول ہوگی ۔ پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ قومی سلامتی مشیران کی بات چیت ہندوستان کی جانب سے عائد کردہ پیشگی شرائط کی بنیاد پر نہیں ہوسکتی ۔ پاکستان کے اس اعلان کے ساتھ ہی آہستگی سے سر ابھارنے والے اندیشے درست ثابت ہوگئے اور بات چیت منسوخ ہوگئی ۔ گذشتہ دو دن کے دوران ہی یہ واضح ہونے لگا تھا کہ یہ بات چیت نہیں ہوسکتی کیونکہ دونوں ہی فریقین نے ایک دوسرے پر الزامات و جوابی الزامات اور شرائط عائد کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا ۔ تاہم بات چیت کے تابوت میںآخری کیل وزیر خارجہ سشما سوراج کی پریس کانفرنس ثابت ہوئی جس میں انہوں نے عملا پاکستان کو الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ آج رات تک یہ واضح تیقن دے کہ وہ علیحدگی پسندوں سے ملاقات نہیں کریگا۔ جب سشما سوراج سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ آیا پاکستان نے علیحدگی پسندوں سے ملاقات اور کشمیر پر مذاکرات پر اصرار کیا تو کیا ہوگا تو انہوں نے واضح اعلان کیا تھا کہ ’’ بات چیت نہیں ہوگی ‘‘ ۔ قبل ازیں پاکستان کے قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز نے یہ ریمارک کیا تھا کہ وہ ہندوستان کو کسی پیشگی شرط کے بغیر بات چیت کیلئے آنے کے خواہاں ہیں۔ سرتاج عزیز کی ہندوستانی مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول کے ساتھ بات چیت دہشت گردی سے متعلق مسائل پر پیر کو دہلی میں ہونے والی تھی ۔ ہندوستان کیلئے جو بات مسئلہ بنی وہ یہ تھی کہ پاکستانی ہائی کمیشن نے حریت کانفرنس کے قائدین کو سرتاج عزیز سے این ایس اے بات چیت سے قبل ملاقات کیلئے مدعو کیا تھا ۔ مشیران قومی سلامتی کی بات چیت کا فیصلہ اوفا میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم نریندر مودی اور نواز شریف کی ملاقات میں ہوا تھا ۔ ہندوستان اس بات پر بھی ناخوش تھا کہ پاکستان نے کشمیر کو این ایس اے سطح کی بات چیت کیلئے ایجنڈہ میں شامل کیا تھا ۔ ہندوستان کے مطابق اوفا میں اس بات سے اتفاق کیا گیا تھا کہ بات چیت صرف دہشت گردی کے مسئلہ پر ہوگی ۔

پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے سشما سوراج کی پریس کانفرنس کے اقتباسات کا احتیاط سے جائزہ لیا ہے ۔ اس کے بعد پاکستان اس نتیجہ پر پہونچا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین قومی سلامتی مشیران کی بات چیت اگر ہندوستان کی جانب سے پیش کردہ دو شرائط کی بنیاد پر کی گئی تو اسکے کوئی نتائج نہیں ہونگے ۔ سشما سوراج کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سشما سوراج یہ اعتراف کرتی ہیں کہ دونوں ملکوں کے مابین دیرپا امن کیلئے تمام متنازعہ مسائل پر بات ہونی چاہئے پھر وہ خود یکطرفہ طور پر بات چیت کو دو امور تک محدود کرنا چاہتی ہیں ۔ یہ دو امور دہشت گردی اور لائین آف کنٹرول پر امن کا قیام ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ذہن نشین رکھتے ہوئے کہ ہندوستان نے کئی دہشت گردانہ واقعات کیلئے ابتداء میں پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور بعد میں یہ الزامات فرضی ثابت ہوئے یہ مناسب نہیں کہ ہندوستان شروع ہونے والی بات چیت کے عمل کو ایک یادو واقعات کو بنیاد بناکر اور سرحدات پر کشیدگی پیدا کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ یاد رکھنا اہمیت کا حامل ہے کہ دہشت گردی آٹھ نکاتی جامع مذاکرات کا حصہ رہا ہے اور اس پر دوسرے مسائل کے ساتھ بات چیت ہوتی رہی ہے ۔ اب یہ ہندوستان کیلئے واجبی نہیں کہ وہ یہ حق اختیار کرلے کہ اب سے دوسرے مسائل پر صرف دہشت گردی پر تبادلہ خیال اور اس کے خاتمہ کے بعد ہی بات چیت ہوگی ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے مابین بات چیت کا اصل مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور تعلقات کو معمول پر لانے کے پہلے قدم کے طور پر اعتماد بحال کرنا ہے ۔ اگر این ایس اے سطح کی بات چیت کا واحد مقصد کشیدگی کم کرنے کی بجائے دہشت گردی پر تبادلہ خیال کرنا ہے تو پھر اس کے نتیجہ میں الزامات کا بازار گرم ہوجائیگا اور ماحول مزید خراب ہوگا۔ بیان کے مطابق اسی لئے پاکستان نے تجویز کیا تھا کہ دہشت گردی سے متعلق مسائل کے ساتھ فریقین کو چاہئے کہ وہ کشمیر ‘ سر کریک اور سیاچین کے بشمول تمام متنازعہ مسائل پر بات چیت کرے اور ممکن ہوسکے تو ان کیلئے حل کیلئے ایک مقررہ مدت کیلئے دائرہ عمل تیار کرے ۔ پاکستان نے کہا کہ صرف یہی واحد راستہ ہے جس کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے مابین امن کے امکانات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ قبل ازیں وزیر خارجہ ہند سشما سوراج نے آج ایک پریس کانفرنس میں یہ واضح کردیا تھا کہ اگر پاکستان مذاکرات میں کشمیر اور علیحدگی پسندوں کو گھسیٹنے کی کوشش کریگا تو بات چیت نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے پاکستان کو اس مسئلہ پر واضح تیقن دینے آج نصف شب تک کا وقت دیا تھا ۔ سشما سوراج نے کہا تھا کہ ہندوستان نہیں بلکہ پاکستان مذاکرات سے فرار حاصل کر رہا ہے اور وہ اندرون ملک بعض گوشوں کے دباؤ کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے ۔

 

پاکستان کا فیصلہ افسوسناک
ہندوستان کا رد عمل
نئی دہلی 22 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے ‘ پاکستان کی جانب سے ہند ۔ پاک مشیران قومی سلامتی کی ملاقات کی تنسیخ کو افسوسناک قرار دیا ہے اور کہا کہ اس نے بات چیت کیلئے کوئی شرط پیش نہیں کی تھی جیسا کہ پاکستان کہہ رہا ہے ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے کہا کہ ہندوستان نے صرف یہ چاہا کہ پاکستان شملہ معاہدہ کا احترام کرے اور اوفا میں جس بات سے اتفاق کیا گیا تھا اس کی پابندی کرے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا فیصلہ افسوسناک ہے اور ہندوستان نے کوئی پیشگی شرط عائد نہیں کی تھی ۔
مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی : کانگریس کا رد عمل
نئی دہلی 22 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس نے آجرات الزام عائد کیا کہ ہند ۔ پاک این ایس اے بات چیت کی منسوخی کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے ۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجیوالا  نے کہا کہ الجھن ‘ لاپرواہ رویہ اور خوف و یاس مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کا حصہ رہے ہیں اور اس میں ویژن اور شعور کا فقدان ہے ۔

TOPPOPULARRECENT