Monday , September 24 2018
Home / ہندوستان / پاکستان پر جموں و کشمیر میں بالواسطہ جنگ کی مدد کا الزام

پاکستان پر جموں و کشمیر میں بالواسطہ جنگ کی مدد کا الزام

نئی دہلی ۔ 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ نے آج خبردار کیا کہ ’’سرگرم سرحدوں‘‘ خطرات اور چیلنجوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گردی سے ہونے والے ہلاکتوں اور تباہ کاریوں سے بری طرح متاثر ہونے کے باوجود جموں و کشمیر میں دوسروں کی طرف سے لڑائی جانے اولی ’’بالو

نئی دہلی ۔ 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ نے آج خبردار کیا کہ ’’سرگرم سرحدوں‘‘ خطرات اور چیلنجوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گردی سے ہونے والے ہلاکتوں اور تباہ کاریوں سے بری طرح متاثر ہونے کے باوجود جموں و کشمیر میں دوسروں کی طرف سے لڑائی جانے اولی ’’بالواسطہ جنگ‘‘ کی مدد کررہا ہے۔ فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستانی فوج کے رویہ تبدیلی کیلئے انتظار کرنا اور دیکھنا ہوگا کیونکہ پشاور میں گذشتہ ماہ فوجی اسکول پر ہوئے تباہ کن حملے کی ہندوستان میں بھی سخت مذمت کی گئی ہے۔ جنرل دلبیر سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی سیکوریٹی فورسیس افغانستان کی صورتحال اور ہندوستان پر اس کے امکانی اثرات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ نے سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے سرگرم حدود کے سبب خطرات و چیلنجوں میں شدت اور نوعیت دونوں ہی اعتبار سے اضافہ ہورہا ہے‘‘۔ عسکریت پسندی سے متاثرہ ریاست جموں و کشمیر میں سیکوریٹی صورتحال کے بارے میں فوج کے سربراہ نے کہا کہ ’’پاکستان خود اپنی سرزمین پر دہشت گردی سے بری طرح تاثر رہنے کے باوجود جموں و کشمیر میں بالواسطہ جنگ کی مدد کررہا ہے‘‘۔

وہ دراصل طالبان عسکریت پسندوں کے ہاتھوں حال ہی میں پشاور کے ایک فوجی اسکول پر ہوئے تباہ کن حملہ کا تذکرہ کررہے تھے۔ جنرل سنگھ نے جموں و کشمیر میں رائے دہندوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے میں فوج اور دیگر سیکوریٹی فورسیس کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حالیہ چند برسوں میں اس سال دہشت گردوں کی کثیر تعداد کے خلاف کارروائی کی گئی۔ 110 دہشت گردوں کے منجملہ 104 کو سیکوریٹی فورسیس نے ہلاک کردیا۔ تخریب کاری سے مقابلہ اس ریاست میں فوج کی طرف سے اختیار کردہ نئے طریقہ کار کے مؤثر ہونے کا اظہار کرتے ہوئے جنرل دلبیر سنگھ نے کہا کہ گذشتہ سال صرف 65 دہشت گرد ہلاک کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں فوج پر دہشت گردوں کے حالیہ حملوں سے ان (دہشت گردوں) کی مایوسی کا اظہار ہوتا ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں حالیہ اضافہ پر جنرل دلبیر سنگھ نے کہا کہ یہ کارروائی آہستگی کے ساتھ اب لائن آف کنٹرول سے بین الاقوامی سرحد کی طرف منتقل ہورہی ہے۔ غالباً یہ اس لئے کہ لائن آف کنٹرول پر تخریب کاری اور دراندازی کے خلاف ہماری کارروائیاں مضبوط اور مؤثر ثابت ہورہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT