Sunday , November 18 2018
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان چمپئنز ٹرافی2021 کی میزبانی کیلئے کوشاں

پاکستان چمپئنز ٹرافی2021 کی میزبانی کیلئے کوشاں

لاہور ۔15فبروری(سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی 2021 کی میزبانی کی خواہش کا اظہار کردیا ہے کیونکہ ورلڈٹی ٹوئنٹی 2016کے موقع پر آئی سی سی اور بی سی سی آئی کی کوشش کے باوجود ہندوستانی حکومت نے ٹیکس معاف نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے آئی سی سی کو 3کروڑ ڈالرس کے قریب نقصان ہوا،6ماہ قبل اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے چیف ایگزیکٹیو آئی سی سی ڈیو رچرڈسن اور جنرل منیجر کیمبل جمیسن نے ارون جیٹلی سے بھی ملاقات کی تھی لیکن کوئی حوصلہ افزا پیش رفت نہ ہوسکی۔ہندوستان میں ہونے والے ایونٹس کو ٹیکس میں نرمی نہ دینے پر تشویش کا اظہار دبئی کے حالیہ آئی سی سی اجلاس میں بھی کیاگیا،اس موقع پر کہا کہ صورت حال برقرار رہی توچیمپئنز ٹرافی 2021 میں کونسل کو 10کروڑ ڈالرس کا نقصان ہوگا اور بھاری مالی خسارہ اٹھانے کے بجائے متبادل میزبان ملک کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ایونٹ کے انعقاد کیلیے سری لنکا اور بنگلہ دیش کو امیدوار خیال کیا جارہا تاہم اب پی سی بی بھی اس دوڑ میں شامل ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکس معاملات کے سبب ہندوستان کو پہنچنے والے نقصان کا پاکستان کو فائدہ ہوسکتا ہے، حکومت کی طرف سے پالیسی میں تبدیلی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔پی سی بی چیمپئنز ٹرافی 2021کی میزبانی حاصل کرنے میں گہری دلچسپی لے رہا ہے،اگرچہ حکام نے اس صورتحال پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا لیکن آئی سی سی ذرائع نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی اس پیشکش پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔اس ضمن میں اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ مکمل طور پر بحال ہونے کے بارے میں ابھی کوئی بات حتمی طور پر نہیں کی جاسکتی لیکن پی سی بی ایونٹ کی میزبانی متحدہ عرب امارات میں کرنے کا فیصلہ کرسکتا ہے،چند مقابلے پاکستان میں کروانے پر بھی زور دیا جائیگا۔امارات میں ٹیکس کے مسائل نہیں ہیں لیکن شارجہ،دبئی اور ابوظہی میں میچز ہوئے تو ایونٹ کا میزبان کون کہلائے گا،بہرحال یہ تکنیکی مسائل اس وقت زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔آئی سی سی ہندوستان کی میزبانی سے گریز کرتے ہوئے کسی متبادل کا سوچ رہا ہے اور پاکستان کی پیشکش آسانی سے نظر انداز ہوجانے والی نہیں اگر ہندوستان سے چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی چھن گئی تو ورلڈکپ 2023 پر بھی خدشات کے بادل مزید گہرے ہوجائینگے۔ایک تجویز یہ بھی ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے بجائے ورلڈٹی ٹوئنٹی کا انعقاد کرکے زیادہ مالی فائدہ حاصل کیا جائے۔اس صورت میں ایونٹ2022میں ہوگاکیونکہ آسٹریلیا میں ورلڈٹی ٹوئنٹی2020 مکمل ہونے کے اگلے سال ہی دوبارہ ٹورنمنٹ نہیں کروایا جائے گا۔یاد رہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹورنمنٹ میں آئی سی سی کو 50 اوورز میچز کی چیمپئنز ٹرافی سے دگنا آمدنی حاصل ہوتی ہے اور بی سی سی آئی کو 115ملین ڈالرس زیادہ دینے کا فیصلہ کیے جانے پر اب مجموعی طور پر 405 ملین ڈالر دیے جانا ہیں۔آئی سی سی کو نئے فل ممبرز آئرلینڈ اور افغانستان کو بھی 40،40ملین ڈالرز دینے ہیں اوراضافی اخراجات پورے کرنے کیلیے ہندوستان کی مارکیٹ بڑی فائدہ مند ہوسکتی تھی لیکن ٹیکس میں نرمی نہ دیے جانے کی وجہ سے متبادل میزبانوں پر غور کرنا مجبوری بن چکا۔

TOPPOPULARRECENT