Friday , December 15 2017
Home / دنیا / پاکستان کا اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر چھیڑنا ’واضح مداخلت ‘

پاکستان کا اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر چھیڑنا ’واضح مداخلت ‘

باہمی تعلقات کی موجودگی میں کہیں اور مسائل چھیڑنا بدبختانہ، اقوام متحدہ میں ہندوستان کا ردعمل
اقوام متحدہ ۔ 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے اقوام متحدہ کے مختلف فورموں میں پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر کا مسئلہ بار بار اٹھائے جانے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ادعا کیا ہیکہ اس قسم کے بیانات بالکلیہ بے مطلب ہیں اور ہندوستان کے داخلی امور میں واضح مداخلت کے مترادف ہے۔ ہندوستان نے یہ بھی کہا کہ کشمیر ہمیشہ ہندوستان کا لازمی حصہ رہا ہے  اور بدستور رہے گا۔ اقوام متحدہ کیلئے پاکستان کے قاصد کی جانب سے تبصروں پر جواب دینے کیلئے ہندوستان کی جانب سے اپنے حق جوابات کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستانی مشن برائے اقوام متحدہ سے وابستہ فرسٹ سکریٹری ابھیشیک سنگھ نے تجویز رکھی کہ پاکستان کو اپنے حق جواب سے استفادہ سے گریز کرتے ہوئے اس کی بجائے اپنا جائزہ لینے کے حق کا استعمال کرنا چاہئے اور یہ سوچنا چاہئے کہ ملک کس سمت بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کی سفیر برائے اقوام متحدہ ملیحہ لودھی نے سب سے پہلے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے کھلے اجلاس میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ جو اس تنازعہ کا لازمی حصہ ہیں، مشاورتیں اس معاملہ کی پرامن یکسوئی کیلئے ناگزیر ہے۔

انہوں نے ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس قسم کے مشاورتوں کی منسوخی کا عمل ناقابل قبول ہے اور اس سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ابھیشیک سنگھ نے اپنے حق جواب سے استفادہ کرتے ہوئے ادعا کیا کہ کشمیر ہمیشہ سے ہندوستان کا حصہ رہا ہے اور ایسا ہی رہے گا۔ یہ عجیب بات ہے کہ اس قسم کے تبصرہ ایسا ملک کررہا ہے جو ہندوستانی ریاست جموں و کشمیر کے کچھ حصہ پر غیرقانونی طور پر قابض ہے۔ کشمیر کے بارے میں ملیحہ لودھی کے ریمارکس کو بالکلیہ مسترد کرتے ہوئے ابھیشیک نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ایسے بیانات واضح طور پر ہندوستان کے داخلی امور میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ انہوں نے گہرے تعصب کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان نے گذشتہ چند ہفتوں میں متعدد موقعوں پر فائر بندی کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں ہندوستانی سمت عام شہری زندگیوں کا اتلاف ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلح افواج اور نیم فوجی دستوں نے ان اشتعال انگیزیوں کے باوجود تحمل سے جواب دیا ہے۔ ملیحہ لودھی کی تقریر کے بعد ہندوستان کے سفیر برائے اقوام متحدہ اشوک مکرجی نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ یہ نہایت بدبختانہ ہے کہ پاکستانی قاصد نے ایسے مسائل چھیڑے ہیں جو یہاں مباحث کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ ہمارے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں اور اس طرح کے مسائل کی یکسوئی کہیں اور اظہارخیال کے بجائے باہمی تعلقات کے اندرون ہونی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT