Monday , November 20 2017
Home / دنیا / پاکستان کا صوبہ سندھ بھی دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ

پاکستان کا صوبہ سندھ بھی دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ

حافظ سعید ہندوؤں کو اسلام قبول کرنے اور سندھی مسلمانوں کو جہاد میں شامل ہونے کی بات کرتے ہیں۔ مدرسوں کی تعداد میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ، امریکہ کی ایک سندھی تنظیم کی رپورٹ
واشنگٹن 2 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں موجود ایک سندھی تنظیم نے یہ ادعا کیا ہے کہ پاکستان کا صوبہ سندھ بھی دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ بنتا جارہا ہے جہاں مدرسوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن ملک کی قیادت کے پاس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کوئی سیاسی قوت ارادی نہیں ہے۔ سندھی تنظیم کی تیار کردہ رپورٹ جس کا عنوان ہے ’’سندھ میں مذہبی انتہا پسندی کا عروج‘‘ کے مطابق سندھ میں انتہا پسند دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے کوئی امکانات نظر نہیں آتے۔ حافظ سعید اور ان کی جماعت الدعوۃ اس کی واضح مثال ہیں جو صوبہ سندھ سے کھلم کھلا اپنی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ سندھ کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی دہشت گردی کو ہوا دینے وہ بالکل آزاد ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ممبئی حملوں کی پوری نگرانی سندھ میں قائم ایک کنٹرول روم سے کی گی تھی۔

پاکستانی فوج بھی سندھی شہریوں کے پراسرار طور پر غائب ہوجانے کی کہیں نہ کہیں ضرور ذمہ دار ہے اور اس طرح مذہبی انتہا پسند تنظیمیں سندھی ہندوؤں کی عبادت گاہوں پر حملہ کرنے اور سندھی لڑکیوں کو جبری تبدیلی مذہب کرتے ہوئے مسلمان کردینے میں مصروف ہے۔ سندھ میں دہشت گردی کے قلع قمع کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے کیوں کہ حکومت پاکستان اور فوج دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی کرنا نہیں چاہتے اور نہ ہی دہشت گرد تنظیموں کے قائدین کے خلاف کوئی کارروائی ہورہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ کی صوبائی حکومت کے محکمہ داخلہ کے مطابق سندھ میں 4021 مدرسے چل رہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں مندرجہ بالا تعداد کے منجملہ صرف دو درجن مدرسوں کو دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے جبکہ کئی بین الاقوامی تنظیمیں بشمول انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے صرف کراچی میں ہی ہزاروں مدرسوں کے موجود ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ حافظ سعید سندھ میں مختلف جلسوں کو خطاب کرتے ہوئے ہندوؤں کو حلقہ بگوش اسلام ہوجانے اور مسلم سندھی نوجوانوں کو کشمیر کے جہاد میں شامل ہونے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ سندھ کے 93 فیصد سندھ کے علاقہ تھر میں رہتے ہیں۔ مدرسوں کی وجہ سے مذہبی اور مسلکی منافرت کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کی کچھ اہم وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ سندھ میں دیگر ریاستوں سے آکر لوگ بس گئے ہیں اور مدرسوں کے نگران کاروں کا تعلق بھی سندھ سے نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT