Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / پاکستان کا کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنے کا ایجنڈہ

پاکستان کا کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنے کا ایجنڈہ

دفعہ 370 کی تنسیخ پر بی جے پی اپنے نظریہ سے منحرف نہیں ہوئی : جیٹلی

دفعہ 370 کی تنسیخ پر بی جے پی اپنے نظریہ سے منحرف نہیں ہوئی : جیٹلی
جموں۔14ڈسمبر( سیاست ڈاٹ کام) پاکستان پر جموں و کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنے کے نامکمل ایجنڈے پر عمل آوری کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی نے آج کہا ہے کہ اسے الگ نہیں کیا جاسکتا اور ایسی طاقتوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ سینئر بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ پاکستان ایک نامکمل ایجنڈے پر کام کررہا ہے کہ ریاست جموںو کشمیر کو ہندوستان سے الگ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مخالف ہند ایجنڈہ یہی ہے کہ ہندوستانی مفادات کے خلاف کام کیا جائے اور وہ اب بھی اسی ایجنڈے پرعمل پیرا ہے ۔ انہوں نے پارٹی کے ویژن سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی قومیت پسند قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو جموں و کشمیر میں لانا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں علحدگی پسند طاقتوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی بلکہ ہم وادی میں عام آدمی کے بہبود کیلئے کام کریں گے ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ بی جے پی ریاست کے عوام کومحفوظ اور صاف ماحول فراہم کرنے کیلئے پابندعہد ہے ۔قبل ازیں چنّی میں انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے جہاں آخری مرحلے کی رائے دہی ہونے والی ہے ارون جیٹلی نے عوام سے خواہش کی ہے کہ وہ بھاری تعداد میں رائے دہی میںحصہ لیں ۔

یہ ان کے لئے تاریخی موقع ہے کہ ریاست میں پیشرو حکومتوں نے جو ناانصافی کی ہے اُس کا ازالہ کیا جائے۔ یہ انتخابات جموں علاقہ کے عوام کیلئے نئی تاریخ درج کریں گے ۔ انہوں نے انتخابات کے بعد جموں و کشمیر میں کسی علاقائی جماعت سے اتحاد کا امکان مسترد کردیا اور کہا کہ ریاست میں دفعہ 370کی تنسیخ کے معاملہ میں بی جے پی نے اپنے نظریہ سے انحراف نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اقتدارپر آنے کی صورت میں تین علاقائی کونسل قائم کرے گی تاکہ فنڈس اور وسائل کی مساوی تقسیم ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT