Thursday , December 14 2017
Home / اداریہ / پاکستان کو امریکی انتباہ

پاکستان کو امریکی انتباہ

در حقیقت دھمکیاں یا فقط انداز ہے
آپ کے انداز کو سمجھا نہیں کوئی ابھی
پاکستان کو امریکی انتباہ
امریکہ نے پاکستان کو واضح الفاظ میں انتباہ دیدیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں دہشت گردوں اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کرے ۔ اگر پاکستان ایسا کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو خود امریکہ پاکستانی سرحدات کے اندر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے گریز نہیں کرے گا ۔ یہ پاکستان کیلئے واضح انتباہ ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں مزید پس و پیش نہ کرے ۔ ویسے تو پاکستان اورا مریکہ کے تعلقات میں گذشتہ کچھ عرصہ سے کشیدگی اور تناو پیدا ہوگیا تھا ۔ ابتداء میں یہ سرد مہری تھی لیکن بعد میں یہ دھیرے دھیرے کشیدگی اور تناؤ کی صورت اختیار کر گئی ہے ۔ جس وقت سے امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوگئے ہیں اس وقت سے یہ تعلقات اور بھی ابتر ہونے لگے ہیں۔ ہندوستان سے امریکہ کی قربتوں میں جتنا اضافہ ہوا ہے اتنا ہی پاکستان اورامریکہ کے تعلقات میں دوری پیدا ہوگئی ہے ۔ یہ دوری کشیدگی کی صورت اختیار کر گئی ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر امریکہ منتخب ہوجانے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے ۔ امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی مدد میں بھی کٹوتی کی ہے ۔ حالانکہ وقفہ وقفہ سے امریکہ یہ واضح کرنے سے گریز نہیں کرتا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کا رول بھی اہمیت کا حامل ہے لیکن ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ خود پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کرنا چاہئے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا بڑا شکار رہا ہے لیکن یہ سب کچھ اس کی اپنی پالیسی کا نتیجہ ہے ۔ پاکستان ان دہشت گرد گروپس کو غیر سرکاری عناصر کی حیثیت سے پروان چڑھاتا رہا ہے ۔ ان کی ہر طرح کی مدد کی جاتی رہی ہے ۔ انہیں سرزمین پاکستان پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آج یہی عناصر خود پاکستان کیلئے بھی خطرہ بن گئے ہیں اور سارے جنوبی ایشیا کے امن کیلئے بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ان ہی عناصرکے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے ۔ امریکہ نے اب واضح الفاظ میں کہدیا ہے کہ یا تو خود پاکستان کارروائی کرے یا پھر امریکہ ایسا کرنے سے گریز نہیں کریگا ۔
جہاں تک دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے اور ان کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کامسئلہ ہے اس پر ہندوستان بھی پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ اس تعلق سے کارروائی کرے ۔ پاکستان ہمیشہ اس مسئلہ پر ٹال مٹول کی پالیسی سے کام لیتا رہا ہے ۔ اس نے ہمیشہ ہی کسی نہ کسی بہانے سے اس کارروائی کو التوا کا شکار کیا ہے ۔ ہندوستان کی بارہا اپیلوں کو اس نے نظر انداز کردیا ہے اور ان عناصر کی پشت پناہی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ یہی بات ہندوستان نے ساری دنیا کے سامنے پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور اب امریکہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کو واضح دھمکیاںدینے کی کوشش کر رہا ہے ۔ پاکستان کو صوررتحال کی سنگینی کا احساس ہونا چاہئے ۔ حالانکہ پاکستان اس بات میں خوش ہے کہ جہاں اس کے تعلقات میں امریکہ سے دوری پیدا ہوئی ہے وہیں چین سے اس کی قربتیں بڑھیں ہیں۔ تاہم اسے یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چین کچھ معاملات میں اس کی مدد تو کرسکتا ہے لیکن اسے امریکہ کی کسی امکانی کارروائی سے بچا نہیں سکتا ۔ چین بھلے ہی مسعود اظہر کے معاملہ میں پاکستان کی مدد کر رہا ہو لیکن وہ دہشت گردی کے معاملہ میں مکمل خاموشی بھی اختیار نہیں کرسکتا اور نہ ہی کھلے عام پاکستان کا دفاع کر پائیگا ۔ در پردہ تعلقات سے انکار نہیں ہوسکتا لیکن خود پاکستان کے امیج اور دنیا بھر میں اس کے تعلق سے جو تاثر پید اہو رہا ہے اس کو دور کرنا بھی چین کیلئے ممکن نہیں رہے گا ۔ اس سلسلہ میں خود پاکستان کو اپنی امیج بہتر بنانے کیلئے اپنی سرحدات میں موثر کارروائی کرنے کی ضرورت ہوگی ۔
جہاں تک امریکہ کا سوال ہے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے مقاصد کی تکمیل اور اپنے عزائم پورے کرنے کیلئے ہر طرح کی کوشش کرسکتا ہے ۔ اس کا رویہ ہٹ دھرمی والا اور من مانی بھی ہوسکتا ہے لیکن اس کو ٹالنے کی ذمہ داری یقینی طور پر پاکستان اور اس کی حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے ٹھکانوں کیلئے پاکستان اور اس کے قبائلی علاقے ہی مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ یہیں سے وہ عناصر پروان چڑھ رہے ہیں جو ساری دنیا میں امن کیلئے خطرہ بن رہے ہیں اور خود پاکستان کیلئے بھی سب سے بڑا خطرہ یہی عناصر بن گئے ہیں۔ پاکستان میں حکومت اور فوج کو مشترکہ ایجنڈہ کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے تال میل اور اشتراک کے ساتھ کارروائی کرنی ہوگی ۔ اگر حکومت اور فوج ایسا کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو پھر حالات خود ان کے قابو سے باہر ہوجائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT