Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / پاکستان کو امریکی F-16 لڑاکا طیاروں کی فروخت مسدود

پاکستان کو امریکی F-16 لڑاکا طیاروں کی فروخت مسدود

کانگریسیوں نے شدید مخالفت کی۔ قطعی فیصلہ اوباما انتظامیہ کرے گا

اسلام آباد ؍ واشنگٹن ۔ 12 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کیلئے یہ یقینی طور پر ایک بری خبر ہوسکتی ہے کیونکہ ری پبلکن کی کنٹرول والی امریکی کانگریس نے پاکستان کو آٹھ F-16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کو فی الحال روک دیا ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں کیپٹل ہل میں صورتحال پاکستان کے خلاف پائی جارہی ہے جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پاکستان دہشت گرد گروپس کے خلاف کارروائی کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہا ہے۔ اس سلسلہ میں انگریزی اخبار ڈان نے بھی کانگریشنل اور سفارتی حوالوں سے بتایا کہ امریکی قانون سازوں نے لڑاکا طیاروں کی فروخت کو فی الحال مسدود کردیا ہے جس سے پاکستان کے خلاف جذبات کا واضح احساس ہورہا ہے۔ اخبار نے ایک بار پھر سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب گذشتہ سال اکٹوبر میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے امریکہ کا دورہ کیا تھا تو اسی وقت اوباما انتظامیہ نے رسمی طور پر کانگریس کو مطلع کردیا تھاکہ امریکہ پاکستان کو لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم قانون سازوں نے اس مسودہ کو قطعیت دینے میں قصداً تاخیر کی۔ اوباما انتظامیہ کو سینیٹ کی جانب سے ’’رک جاؤ‘‘ والی نوٹس بھی جاری کی گئی ہے

اور اس فروختگی پر مقننہ کے عمل کو بروئے کار لاتے ہوئے مجوزہ فروخت کو تاخیر کا شکار کردیا گیا۔ امریکی عہدیداروں نے قبل ازیں اس اندیشے کا اظہار تھا کہ پاکستان کو F-16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کیلئے کانگریس کو قائل کرنا ایک بیحد مشکل اور پیچیدہ عمل ہوسکتا ہے۔ وجہ پھر وہی بتائی گئی ہیکہ پاکستان حالیہ دنوں میں دہشت گردوں کے خلاف ویسے اقدامات نہیں کررہا ہے جیسا کہ وہ پہلے کیا کرتا تھا اور جس پر امریکہ نے پاکستان کی کئی بار ستائش بھی کی تھی۔ بہرحال امریکہ کی جانب سے پاکستان کو F-16 لڑاکا طیاروں کی فروخت پر جو ’’روک‘‘ لگائی گئی ہے اس پر پاکستان کے کسی بھی اعلیٰ سطحی عہدیدار نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ F-16 طیارے پاکستانی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی تصور کئے جاتے ہیں۔ اخبار نے آگے چل کر یہ بھی تحریر کیا ہیکہ اگر اوباما انتظامیہ کسی بھی حالت میں F-16 لڑاکا طیارہ پاکستان کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنا ہی چکا ہے تو اسے کوئی روک بھی نہیں سکتا۔ اسی دوران ایک کانگریس مین ٹیڈ پوٹی نے کہا کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ F-16 لڑاکا طیارہ جو تباہ کن جنگی سازوسامان سے لیس ہے، کس طرح انسانی خدمات کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر پاکستان C-130 طیارہ خریدتا تو ہم سمجھ سکتے تھے کہ انہیں انسانی خدمات کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کیپٹل ہل ذرائع کا کہنا ہیکہ اوباما انتظامیہ اگر ٹھان لے تو پھر پاکستان کو F-16 لڑاکا طیارے خریدنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایک دیگر کانگریس مین ڈان روہراباشر نے کہا کہ پاکستان کو ہم F-16 لڑاکا طیارے اور دیگر جنگی سازوسامان ضرور سربراہ کررہے ہیں تاہم ہم یہ بھول رہے ہیں کہ پاکستان ان کا استعمال اپنے ہی لوگوں کے خلاف کررہا ہے جیسا کہ اس نے بنگلہ دیش میں کیا تھا۔ یاد رہے کہ امریکہ میں قانون سازوں کی اکثریت پاکستان کو امریکی ہتھیاروں کی خریداری کی مخالفت کرتی آئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT