پاکستان کو ’’اِس کی ٹوپی اُس کے سر‘‘ رکھنے کی اجازت نہ دینگے

آئی ایم ایف سے قرض لیکر چین کے قرضوں کی بازادائیگی پر امریکہ کی نظر
فنڈس کے امکانی بیجا استعمال پر تشویش ایک فطری بات
سکریٹری آف ٹریژری برائے بین الاقوامی امور ڈیوڈ مالپاس کی وضاحت
واشنگٹن ۔ 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے بیان کی اگر مانیں تو امریکہ اب اس بات کا خواہاں ہے بلکہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہیکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اگر پاکستان کو دیا جاتا ہے تو پاکستان پر نظر رکھنی پڑے گی کہ وہ اس فنڈ کو چین سے لئے گئے قرِضہ جات کی باز ادائیگی میں استعمال نہ کرے۔ سینئر عہدیدار نے قانون سازوں سے یہ بات کہی۔ یاد رہیکہ عمران خان پاکستان کے وزیراعظم ایک ایسے وقت بنے ہیں جب ملک کی معاشی حالت دگرگوں ہے اور اس پر قرضوں کا بوجھ ہے۔ عمران نے اس سلسلہ میں سعودی عرب کا بھی دورہ کیا تھا تاکہ وہاں سے بھی کچھ امداد حاصل ہوجائے جبکہ آئی ایم ایف سے عمران خان نے 8 بلین ڈالرس کا قرض مانگا ہے تاکہ ملک کی متزلزل معیشت کو کچھ سہارا مل سکے۔ حالیہ دنوں میں آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ہوئی ملاقات کے کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔ امریکہ کا استدلال یہ ہیکہ پاکستان کی کمزور معیشت کیلئے خود پاکستان ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے چین سے جو خطیر رقمی قرض لے رکھا ہے اس نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ دی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ چہارشنبہ کو ایک کانگریشنل سماعت کے دوران انڈر سکریٹری آف ٹریژری برائے بین الاقوامی امور ڈیوڈ مالپاس نے قانون سازوں کو بتایا کہ ہم نے آئی ایم ایف سے مسلسل ربط قائم رکھا ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ اگر وہ کوئی فنڈ پاکستان کو فراہم کرتا ہے تو اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ پاکستان اس فنڈ کو ’’اس کی ٹوپی اس کے سر‘‘ کے مصداق چین سے اپنے قرضہ جات کی باز ادائیگی کیلئے استعمال نہ کرے لہٰذا امریکی قانون سازوں میں یہ تشویش پیدا ہونا فطری بات ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف فنڈ کا بیجا استعمال ضرور کرے گا اور اس کی اسی کوشش کو ناکام کیا جانا چاہئے۔ مسٹر مالپاس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش بھی کررہا ہے کہ پاکستان کو اس بات کیلئے آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنے معاشی پروگرام کو تبدیل کرلے تاکہ مستقبل میں اسے (پاکستان) کسی ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔ ایوان کی فینانشیل سرویسیس کمیٹی کی سماعت کے دوران کانگریس مین ایڈرائس نے بتایا کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف سے کروڑہا ڈالرس پر مشتمل بیل آؤٹ پیاکیج حاصل کرنے کوشاں ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ اس کی ٹوپی اس کے سر۔ آئی ایم ایف سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے بیجنگ۔ مسٹر مالپاس نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف قرضہ جات مختصر مدتی ہوں گے جبکہ چین پاکستان کو جو قرضے دے گا وہ طویل مدتی ہوں گے لیکن پاکستان کیلئے سب سے اہم بات یہ ہیکہ اسے اسٹرکچورل اصلاحات کی ضرورت ہے اور اس پر زائد توجہ دیتے ہوئے اسے ایک ’’غریب ملک‘‘ ہونے کا جو دم چھلہ لگایا گیا ہے، اسے ہمیشہ کیلئے ہٹا دینا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT