Saturday , October 20 2018
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف 3-0 کی شکست

پاکستان کو آسٹریلیا کے خلاف 3-0 کی شکست

ابوظہبی۔ 13؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ونڈے میں ناکامی کے بعد سیریز میں وائٹ واش کی ہزیمت کا شکار ہوگئی۔ آسٹریلیا نے سنسنی خیز مقابلہ میں میچ کی آخری گیند پر ایک رن کی کامیابی حاصل کرلی۔ پاکستان کو آخری اوور میں کامیابی کے لئے 2 رنز درکار تھے، لیکن گلین میکسویل کے اس اوور میں 2 پاکستانی کھلاڑی آؤٹ ہوئے اور کوئی رن نہ بن سکا۔ پاکستان کی جانب سے اسد شفیق نے نصف سنچری اسکور کی۔ اوپنرس سرفراز احمد اور احمد شہزاد نے ایک مرتبہ پھر بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے بالترتیب 32 اور 26 رنز اسکور کئے۔ کپتان شاہد آفریدی بیٹنگ میں کوئی کمال نہ دکھا سکے اور صرف 6 رنز کا تعاون دے کر پویلین لوٹ گئے۔ فواد عالم اس مرتبہ ناکام رہے اور اننگز کا کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہوئے۔ عمر امین جنہیں ایک مرتبہ پھر بڑی اُمیدوں کے ساتھ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا، لیکن وہ 19 رنز بناسکے۔ صہیب مقصود کے پاس خود کو میچ ونر ثابت کرنے کا سنہری موقع تھا لیکن وہ عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 34 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔ انور علی کو صرف 14 رنز بنانے کا موقع ملا۔ سہیل تنویر ٹیم کو فتح کے قریب پہنچاکر گیند کو باؤنڈری لائن کے باہر پہنچانے کی کوشش میں وکٹ گنوا بیٹھے۔ انھوں نے 10 رنز بنائے۔ قبل ازیں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلتے ہوئے پاکستان کو جیت کے لئے 232 رنز کا نشانہ دیا۔ آسٹریلیا کو اوپنرس آرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر نے 48 رنز کا بہتر آغاز فراہم کیا۔ وارنر نے اسٹیون اسمتھ کے ساتھ دوسری وکٹ کے لئے 54 رنز بنائے۔ کپتان شاہد آفریدی نے اپنی گیند پر وارنر کا کیچ لے کر انھیں پویلین لوٹایا۔ پاکستان کو اگلے ہی اوور میں ایک اور بڑی کامیابی اُس وقت ملی جب کپتان جارج بیلی بغیر کوئی رن بنائے محمد عرفان کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے، تاہم گلین میکسویل نے تیزی سے کھیلتے ہوئے رنز بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ شاہد آفریدی نے عمر امین کے شاندار کیچ کی مدد سے انھیں پویلین کی راہ دکھائی۔ اسکور 157 تک پہنچا تو سیریز کا پہلا میچ کھیلنے والے فلپ ہیوز کو سہیل تنویر نے آؤٹ کیا۔ انور علی کی چست فیلڈنگ نے براڈ ہاڈین کو بھی رن آؤٹ کیا۔ اس موقع پر آسٹریلیا 159 رنز پر 5 کھلاڑیوں سے محروم ہو گئی تھی، لیکن اسمتھ اور جیمز فالکنر نے اننگز کو سہارا دیا۔ اسمتھ نے 77 اور فالکنر نے 33 رنز بنائے۔ آسٹریلیا نے مقررہ 50 اوورس میں 231 رنز کا مجموعی اسکور بنایا۔ سہیل تنویر 3 وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بولر رہے جب کہ کپتان شاہد آفریدی نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ اس سے قبل میچ کے لئے پاکستانی ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو آرام دیا گیا اور ان کی جگہ شاہد آفریدی کو قیادت کے فرائض سونپے گئے۔ میچ کے لئے ٹیم میں تین تبدیلیاں کی گئیں جہاں مصباح، عمر اکمل، رضا حسن کو آرام دیا گیا تھا جب کہ وہاب ریاض زخمی ہوکر ٹیم سے باہر ہوگئے تھے۔ ان کی جگہ عمر امین، صہیب مقصود، انور علی اور سہیل تنویر کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔آسٹریلیا نے بھی تیسرے میچ کی اہمیت نہ ہونے کے سبب اپنے اہم فاسٹ بولر مچل جانسن اور اسپنر ناتھن لائن کو آرام دیا۔ دریں اثناء ناقص مظاہروں سے پریشان پاکستانی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں ماحول اُس وقت ڈرامائی ہوگیا، جب ونڈے ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو اچانک تیسرے ونڈے کے لئے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا جب کہ پی سی بی کے چیرمین شہریار خان نے قیاس آرائیوں کے پیدا ہونے سے قبل ہی مداخلت کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ مصباح الحق کو تیسرے ونڈے میں شامل نہ کرنے کی اہم وجہ انھیں آرام کا موقع دیتے ہوئے تازہ دم ہوکر ٹسٹ سیریز میں ٹیم کی قیادت کا موقع فراہم کیا جانا ہے۔ شہریان خان نے ابوظہبی میں تیسرے ونڈے کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مصباح الحق نے بورڈ سے تیسرے ونڈے میں آرام کرنے کی درخواست کی تھی جس کو قبول کرتے ہوئے ٹیم انتظامیہ نے شاہد آفریدی کو قیادت کا موقع دیا۔ دوسری جانب مصباح الحق نے بھی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اچانک آفریدی کو کپتان بنانے کے درپردہ کوئی اہم مقاصد نہیں ہیں۔ دریں اثناء رمیز راجہ نے کہا کہ جب مصباح آرام کرنا چاہتے تھے تو آفریدی کے مقام پر کسی نوجوان کھلاڑی کو قیادت کا موقع دیا جانا چاہئے تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ آفریدی کی قیادت کا انداز کیا ہے اور اچانک انھیں کپتانی سونپی جانے سے تذبذب کا ماحول پیدا ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT