Thursday , September 20 2018
Home / دنیا / پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی امریکی امداد معطل، ٹرمپ کا فیصلہ

پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی امریکی امداد معطل، ٹرمپ کا فیصلہ

طالبان اور حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام، حافظ سعید کے مسئلہ سے فیصلہ کا تعلق نہیں
واشنگٹن ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی جانب سے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک جیسے خوفناک دہشت گرد گروپوں اور اپنی سرزمین پر ان کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف ’’فیصلہ کن اقدامات‘‘ کرنے میں ناکامی پر امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی زائد از 1.15 ارب امریکی ڈالر مالیتی سیکوریٹی امداد کو آج منجمد کردیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے سال نو پر کئے گئے ٹوئیٹ کے بعد پاکستان کو دی جانے والی یہ خطیر امریکی سیکوریٹی امداد منجمد کی گئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ ’’33 ارب ڈالر امداد کے بدلے پاکستان نے امریکہ کو جھوٹ اور دھوکہ کے سواء کچھ نہیں دیا بلکہ ان دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہ فراہم کی جنہیں (دہشت گردوں کو) ہم (امریکی فوج) افغانستان میں ڈھونڈ رہے تھے‘‘۔ پاکستان کو دی جانے والی اس معطل شدہ امریکی امداد میں خارجی فوجی فنڈنگ (ایف ایم ایف) برائے سال 2016ء کے تحت 255 ملین ڈالر بھی شامل ہیں جو کانگریس کی طرف سے منظور کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ محکمہ دفاع کی طرف سے دیئے جانے والے 900 ملین ڈالر مالیتی مخلوط امدادی فنڈس برائے مالیاتی سال 2017ء کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔ گذشتہ مالیاتی سال کی غیر تصرف شدہ رقم کی اجرائی بھی روک دی گئی ہے۔ دفترخارجہ کی ترجمان ہیتھر ناؤرٹ نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’ہم آج یہ توثیق کرسکتے ہیں کہ پاکستان کو دی جانے والی صرف قومی سیکوریٹی امداد کو اس مرتبہ معطل کررہے ہیں تاوقتیکہ حکومت پاکستان کی جانب سے بشمول افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک مختلف گروپوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی‘‘۔ ناؤرٹ نے کہا کہ ’’ہم انہیں (دہشت گرد گروپوں کو) اس علاقہ کو غیرمستحکم کرنے اور امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو فوج آلات، سیکوریٹی سے متعلق فنڈس وغیرہ اس وقت تک نہیں پہنچائے جائیں گے جب تک قانون کے تحت ایسا کرنا ضروری رہے گا۔ ٹرمپ نے اگست میں جنوب ایشیاء پر اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد تھا کہ وہ نیراج، افراتفری، تشدد اور دہشت کے ایجنٹوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کررہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کیلئے اب وقت آگیا ہیکہ وہ تہذیب و تمدن، نظم و ضبط اور امن کے تئیں اپنے عزم کا عملی مظاہرہ کرے۔ ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا تذکرہ کرتے ہوئے ناؤرٹ نے کہا کہ حکومت پاکستان کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ سطحی رابطوں کے باوجود طالبان اور حقانی نیٹ ورک پاکستان میں بدستور محفوظ ٹھکانے پارہے ہیں کیونکہ وہ افغانستان کو غیرمستحکم کرنے کی سازشوں کے علاوہ امریکہ اور اس کے حلیف اہلکاروں پر حملے بھی کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ناورٹ نے یہ بھی واضح کردیا کہ جماعت الدعوہ کے سربراہ اور ممبئی دہشت گرد حملوں کے اصل سازشی سرغنہ حافظ سعید کے خلاف پاکستان کی طرف سے کارروائی نہ کرنے کا اس امریکی اقدام سے کوئی تعلق یا سروکار نہیں ہے۔ پاکستان کی طرف سے گذشتہ سال نومبر میں رہا کردہ حافظ سعید سے متعلق ایک سوال پر ناؤرٹ نے جواب دیا کہ ’’2008ء کے ممبئی حملوں کے اصل سازشی ذہن کو گھر پر نظربندی سے رہا کئے جانے پر ہم نے یقینا اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا لیکن میری معلومات کے مطابق اس (پاکستان کو امداد کی معطلی سے متعلق تازہ ترین امریکی) اقدام سے اس مسئلہ کا کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT