Friday , June 22 2018
Home / پاکستان / پاکستان کو دہشت گردی سے چھٹکارہ دلانے کا عزم

پاکستان کو دہشت گردی سے چھٹکارہ دلانے کا عزم

لاہور ، 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے آج عزم کیا کہ اس ملک سے دہشت گردی کا صفایا کردیں گے اور پشاور میں آرمی کے زیرانتظام اسکول پر سفاکانہ طالبان حملے کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے اتحاد کے مظاہرے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ’’پاکستان کی سردست اصل توجہ دہشت گردی سے لڑائی پر مرکوز ہے کیونکہ ہمیں اس کا ہماری سرزمین سے

لاہور ، 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے آج عزم کیا کہ اس ملک سے دہشت گردی کا صفایا کردیں گے اور پشاور میں آرمی کے زیرانتظام اسکول پر سفاکانہ طالبان حملے کے بعد سیاسی جماعتوں کی جانب سے اتحاد کے مظاہرے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ’’پاکستان کی سردست اصل توجہ دہشت گردی سے لڑائی پر مرکوز ہے کیونکہ ہمیں اس کا ہماری سرزمین سے صفایا کرنا ہوگا ،‘‘ نواز شریف نے یہ بات کہی۔ انھوں نے بزدلانہ طالبان حملے کے بعد جس میں زیادہ تر بچوں کے بشمول 148 افراد ہلاک ہوگئے، تمام سیاسی جماعتوں کے یکجا ہوجانے کو ایک بڑا اقدام قرار دیا جو اس ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں مدد دے گا۔ ’’یہ اچھی علامت ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوگئی ہیں ،

‘‘ انھوں نے یہ بات یو اے ای سے شہزادوں کے وفد کے ساتھ لاہور کے قریب رائے ونڈ میں اپنی محل نما قیامگاہ پر منعقدہ ملاقات کے دوران کہی۔ نواز شریف نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب جو پاکستان آرمی نے جون میں شمال مغربی قبائلی خطہ میں شروع کیا، کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اور مزید کہا کہ کسی دہشت گرد کو بخشا نہیں جائے گا۔ دورہ کنندہ یو اے ای وفد نے منگل کو پیش آئے بچوں اور ٹیچروں کے قتل عام پر اپنے رنج و غم کا اظہار کیا، نیز یہ کہ یو اے ای دہشت گردی سے لڑائی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ نواز شریف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اُن کی حکومت انصاف رسانی کے عمل میں تیزی لانے کیلئے کام کررہی ہے۔ چہارشنبہ کو انھوں نے دہشت گردی سے متعلق کیوں میں سزائے موت پر 2008ء سے عائد امتناع کو برخاست کردیا۔ بعدازاں نواز شریف نے انسداد دہشت گردی کیلئے اقدامات پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور اپنے چھوٹے برادر شہباز شریف کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے عسکریت پسندوں کو پھانسی دیئے پر اور طالبان گروپوں کی طرف سے ممکنہ ردعمل کو بے اثر کرنے کیلئے سکیورٹی اقدامات پر بھی غوروخوض کیا۔ ابھی تک دو دہشت گردوں محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود کو پھانسی دی گئی جو آرمی ہیڈکوارٹرس اور سابق فوجی حکمران پرویز مشرف پر حملوں میں ملوث تھے۔ مزید آٹھ کو پنجاب کی مختلف جیلوں میں اگلے 48 گھنٹوں میں تختہ دار پر چڑھایا جاسکتا ہے۔ اُدھر آرمی نے منگل کے حملے کے بعد قبائیلی خطہ میں اپنے آپریشنس میں شدت پیدا کردی ہے۔

TOPPOPULARRECENT