Saturday , November 18 2017
Home / پاکستان / ’پاکستان کو 1971 جیسی مزید ایک تقسیم کا سامنا‘

’پاکستان کو 1971 جیسی مزید ایک تقسیم کا سامنا‘

نواز شریف کی وارننگ، وکلاء کے کنونشن سے خطاب، فوج اور عدلیہ پرتنقید
لاہور ۔ 25 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے معزول وزیراعظم نواز شریف نے انہیں نااہل قرار دیئے جانے پر سپریم کورٹ کو سخت تقنید کا نشانہ بناتے ہوئے آج خبردار کیا کہ اگر عوامی فیصلہ کا احترام نہیں کیا گیا تو پاکستان کو 1971 کی ایک اور تقسیم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نواز شریف نے یہ سخت تنقید ایک ایسے وقت کی جس سے ایک دن قبل لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف اور ان کی پارٹی کے قائدین کی طرف سے عدلیہ کے خلاف کئے جانے والے ریمارکس نشر کرنے پر امتناع عائد کیا تھا۔ انہوں نے سمندر پار جائیدادوں سے متعلق اپنے اور اپنے ارکان خاندان کے خلاف پناما دستاویزات کی تحقیقات کا حصہ بننے پر ملک کے انٹلیجنس اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ نواز شریف نے کہا کہ ’’ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہیکہ ایک مقدمہ میں جس کا دہشت گردی یا ملک کی سلامتی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انٹر سرویس انٹلیجنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹلیجنس کو بھی جوائنٹ انوسٹیگیشن ایجنسی (جے آئی ٹی) کاحصہ بنایا گیا تھا‘‘۔ نواز شریف نے وکلاء کے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نااہل قرار دینے سے متعلق 28 جولائی کو صادر کردہ سپریم کورٹ فیصلے کو عوام نے قبول نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک کی تاریخ میں اس فیصلے کو ایک غیرمنصفانہ فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا‘‘۔ معزول وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ مںی 18 وزرائے اعظم کو میعاد کی تکمیل کے بغیر ہی گھر بھیج دیا گیا۔ نواز شریف نے کہا کہ ’’اس طریقہ کار کو ختم کیا جانا چاہئے۔ ہمیں بیلٹ کے احترام کویقینی بنانا ہوگا۔ اگر عوام کے ووٹ کا احترام نہیں کیا جائے گا تو مجھے ڈر ہے کہ پاکستان کو 1971 جیسی ناگہانی کا سامنا کرنا پڑے جب ایک ملک دو حصوں میں منقسم ہوگیا تھا۔ پاکستان یہ اپنا مسئلہ کئے بغیر آگے نہیں بڑ سکتا‘‘۔ نواز شریف دراصل پاکستان سے جنگ آزادی کے بعد 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کا تذکرہ کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے ملک کی سیاست میں ہمیشہ ہی کلیدی رول ادا کی ہے۔ اس ملک کی 70 سالہ تاریخ میں فوج نے 33 سال حکمرانی کی۔

 

TOPPOPULARRECENT