Thursday , December 14 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان کی بقاء کیلئے ہندوستان سے کھیلنا ضروری نہیں

پاکستان کی بقاء کیلئے ہندوستان سے کھیلنا ضروری نہیں

ڈسمبر کی کرکٹ سیریز حکومت ہند پر منحصر ، پی سی بی سربراہ شہریار خان کا تاثر

نئی دہلی ، 8 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) پی سی بی سربراہ شہریار خان نے آج کہا کہ ہندوستان سے نہ کھیلنا کچھ ’’رکاوٹ‘‘ ضرور ہے لیکن پاکستان اس صورت میں بھی بدستور آگے بڑھتا رہے گا کہ اگر بی سی سی آئی باہمی کرکٹ سیریز سے دستبردار ہوجائے، جو یو اے ای میں ڈسمبر میں منعقد شدنی ہے۔ پی سی بی اور بی سی سی
آئی نے 2015ء اور 2023ء کے درمیان چھ سیریز کھیلنے سے متعلق یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے ہیں۔ تاہم پی سی بی کو گزشتہ ہفتے کے اپنے مکتوب پر انڈین بورڈ کا جواب ہنوز حاصل ہونا ہے، جس میں اُن سے ’لازمی معاہدہ‘ کا احترام کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ یہ پوچھنے پر آیا وہ سمجھتے ہیں کہ کٹر حریفوں کے درمیان میدان پر روابط کا ڈسمبر میں احیاء ہوگا، شہریار نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو بتایا: ’’دیکھئے! یہ آپ کی حکومت پر منحصر ہے۔ آپ کے بورڈ نے ہمارے ساتھ معاہدہ پر دستخط کئے ہیں کہ ہم ڈسمبر میں کھیلیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حکومت سے اجازت لینا پڑے گا۔ ہم نے بی سی سی آئی کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے اُن سے معاہدہ کی تعمیل کرنے کی اپیل کی ہے۔ ہم بس یہی کہہ رہے ہیں کہ آپ نے کچھ باتوں پر دستخط کررکھی ہے، لہٰذا براہ کرم اپنی دستخط کا مان رکھ لیں۔‘‘ پی سی بی کو وطن میں اکثر تنقیدوں کا سامنا رہا ہے کہ بی سی سی آئی سے باہمی روابط کے احیاء کیلئے بار بار اپیل کی جاتی ہے۔ عظیم کھلاڑی جاوید میاں داد تو یہ تک کہہ چکے ہیں کہ پی سی بی کو عزت نفس کی قیمت پر ہندوستان سے نہیں کھیلنا چاہئے۔ شہریار نے یہ دہراتے ہوئے کہ سیاست اور کھیل کود کو خلط ملط نہیں کرنا چاہئے، یہ واضح کردیا کہ پاکستان اس نامی گرامی باہمی سیریز کے مستقبل سے قطع نظر آگے بڑھتا رہے گا۔ 81 سالہ شہریار نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا: ’’مان لیں کہ سیاسی وجوہات کی بناء ہندوستانی حکومت پاکستان سے کھیلنے کے خلاف فیصلہ کرتی ہے، تو اس کا مطلب نہیں کہ ہم دیوالیہ ہوجائیں گے۔ ہم سنبھل جائیں گے۔ جب ہم گزشتہ کئی برسوں سے انڈیا۔ پاکستان کرکٹ کے بغیر آگے بڑھتے رہے ہیں، تو ہم ایسا ہی کرتے رہ سکتے ہیں۔ ہاں، کچھ دھکہ ضرور لگے گا لیکن بہت فکرمندی کی بات نہیں۔ ماضی کی طرح ہندوستانی حکومت ہی اس مقبول عام معاملے پر قطعی فیصلہ کرے گی لیکن بی سی سی آئی سکریٹری اور بی جے پی ایم پی انوراگ ٹھاکر کے حالیہ ٹوئٹ کو ملحوظ رکھیں تو سرحد کی کسی بھی طرف شائقین کیلئے کوئی امید افزاء بات نہیں ہے۔ ٹھاکر کے گزشتہ ماہ کے متنازعہ ٹوئٹ سے متعلق پوچھنے پر شہریار نے کہا، ’’ہمارا داؤد ابراہیم کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ہماری حکومت نے بار بار واضح کردیا ہے کہ وہ پاکستان میں نہیں ہے۔ یہ صورتحال سیاسی عروج و زوال کا حصہ ہے۔ کرکٹ ہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے ہم بہتر تعلقات استوار کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT