Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / پاکستان کی فوج کے سربراہ کا ہندوستان کو انتباہ

پاکستان کی فوج کے سربراہ کا ہندوستان کو انتباہ

جنگ کی صورت میں ’’ناقابل برداشت قیمت ‘‘ چکانی ہوگی ، دہشت گردوں کے صفائے کا عہد : جنرل راحیل
اسلام آباد ۔ 7 سپٹمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر کو’’غیرمختتم ایجنڈہ ‘‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ہندوستان کو انتباہ دیا کہ مختصر مدتی ہو یا طویل مدتی جنگ کی صورت میں ’’دشمن کو ناقابل برداشت نقصان اُٹھانا پڑے گا ‘‘ ۔ اگرچہ اُنھوں نے اپنی تقریر میں جو گزشتہ روز فوجی ہیڈکوارٹرس پر کی گئی تھی ، ہندوستان کا نام نہیں لیا ، لیکن اُن کا اشارہ واضح طورپر ہندوستان کی طرف تھا ۔ اُن کا یہ تبصرہ ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سوہگ کے اس بیان کا ردعمل تھا جس میں انھوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہندوستان کی فوج ’’تیز رفتار مختصر مدتی جنگوں کیلئے تیار ہے ‘‘ ۔ جنرل راحیل نے کہا تھا کہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہمارے مسلح افواج کسی بھی خارجی جارحیت کی تمام اقسام کو شکست دینے کی بھرپور قابلیت رکھتی ہیں ۔ اگر دشمن کوئی غلط مہم جوئی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کی جسامت کچھ بھی ہو اور اس کی مدت مختصر ہو یا طویل اسے ناقابل برداشت قیمت چکانی ہوگی ۔ انھوں نے راولپنڈی میں 1965 ء کی ہند۔پاک جنگ کی پچاسویں سال کی تکمیل کے موقع پر راولپنڈی میں ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا ۔ پاکستان کی مسلح افواج بھرپور صلاحیت رکھتی ہے کہ تمام اقسام کے داخلی اور خارجی خطروں سے نمٹ سکے چاہے وہ روایتی ہو یا غیرروایتی ۔ چاہے وہ سرد آغاز کے ساتھ ہو یا گرم آغاز کے ساتھ ،ہم ہرصورتحال کیلئے تیار ہیں۔ جنرل راحیل نے کشمیر کو ’’تقسیم کے وقت کا غیرمختتم ایجنڈہ ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کی یکسوئی اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کی جائے گی جس نے استصواب عامہ کی اپیل کی تھی ۔ انھوں نے انتباہ دیا کہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا ۔ ان کے یہ تبصرے سرحد پر ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے درمیان حال ہی میں خط قبضہ پر سرحدپار کی فائرنگ اور کشیدگی میں اضافہ کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ جنرل راحیل نے تیقن دیا کہ ملک میں عسکریت پسندوں کے پورے نٹ ورکس کا صفایہ کردیا جائے گا ۔ انھوں نے اپنے اس پختہ عہد کا اعادہ کیا کہ ہم اُ س وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ تمام دہشت گردوں کا صفایا نہ ہوجائے ۔ جب تک اُن کو مالیہ فراہم کرنے والے ، اُن کی تائید کرنے والے ، اُن کو سہولت فراہم کرنے والے اور اُن کے ہمدردوں کو انصاف کے کٹھہرے میں کھڑا نہ کردیا جائے ۔ انھوں نے افغانستان کو تیقن دیا کہ اسلام آباد پرامن افغانستان کے قیام کا پابند عہد ہے اور کہا کہ پاکستان نے ’’مخلصانہ اور ٹھوس کوششیں افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے کی ہیں لیکن بعض دشمن طاقتیں اٹل ہیں کہ ہماری کوششوں کو ناکام بنائیں ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT