Saturday , December 16 2017
Home / پاکستان / پاکستان کی ’’مدرٹریسا‘‘ ڈاکٹر روتھ فاؤ کا انتقال

پاکستان کی ’’مدرٹریسا‘‘ ڈاکٹر روتھ فاؤ کا انتقال

کراچی ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں جرمن نژاد خاتون ڈاکٹر روتھ فاؤ جنہیں ملک گیر شہرت حاصل تھی اور انہیں ’’پاکستان کی مدرٹریسا‘‘ کہا جاتا تھا، کراچی کے ایک خانگی ہاسپٹل میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 87 سال تھی۔ انہوں نے ملک سے جزام کی بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔ ڈاکٹر فاؤ نے سب سے پہلے 1960ء میں کراچی کا دورہ کیا تھا اور وہاں موجود جذام کے مریضوں کی حالت زار دیکھ کر اس قدر رنجیدہ ہوئیں کہ انہوں نے زندگی بھر کراچی میں ہی قیام کرنے کا فیصلہ کرلیا تاکہ وہ ان کا جامع علاج کرسکیں۔ 1962ء میں انہوں نے کراچی میں میری ایڈیلیڈ لیپراسی سنٹر قائم کیا اور بعدازاں پاکستان کے تمام صوبہ جات میں اس کی شاخیں کھول لیں اور زائد از 50,000 خاندانوں کا علاج کیا۔ 1929ء میں جرمنی میں پیدا ہوئیں ڈاکٹر فاؤ نے دوسری جنگ عظیم کا ہولناک ماحول بھی دیکھا۔ انہیں پاکستان کے دو اہم ترین سیویلین ایوارڈس ہلال امتیاز (1979) اور ہلال پاکستان (1989) سے نوازا گیا۔ ان کی آخری رسومات 19 اگست کو سینٹ پیٹرکس کیتھڈرل میں انجام دی جائیں گی جبکہ تدفین کرسچین قبرستان (گورا قبرستان) میں عمل میں آئے گی۔ اس موقع پر جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے ڈاکٹر روتھ کے انتقال پر ایڈیلیڈ لیپراسی سنٹر کو اپنا تعزیتی پیغام روانہ کیا۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈاکٹر روتھ جرمنی میں ضرور پیدا ہوئی تاہم ان کا دل ہمیشہ پاکستان میں رہا۔

TOPPOPULARRECENT