Saturday , June 23 2018
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان کی ٹسٹ رینکنگ کیوں گری؟

پاکستان کی ٹسٹ رینکنگ کیوں گری؟

دبئی۔ 12 مئی۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کی ٹسٹ رینکنگ میں تین درجہ تنزلی کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔آئی سی سی کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی سالانہ تازہ عالمی درجہ بندی سے قبل پاکستان تیسرے درجے پر موجود تھا لیکن نئی رینکنگ میں پاکستان تین درجہ تنزلی کے بعد چھٹے نمبر پر چلا گیا ہے۔پاکستان کی اس تنزلی کی سب سے ب

دبئی۔ 12 مئی۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) کی ٹسٹ رینکنگ میں تین درجہ تنزلی کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔آئی سی سی کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی سالانہ تازہ عالمی درجہ بندی سے قبل پاکستان تیسرے درجے پر موجود تھا لیکن نئی رینکنگ میں پاکستان تین درجہ تنزلی کے بعد چھٹے نمبر پر چلا گیا ہے۔پاکستان کی اس تنزلی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آئی سی سی نے گزشتہ دو سال کی کارکردگی کی بنیاد پر یہ نئی رینکنگ اپ ڈیٹ کی جس کی وجہ سے پاکستان کی ماضی میں کئی فتوحات کو فہرست سے نکال دیا گیا۔آئی سی سی نے صرف پاکستان کے2013 ء اور اس کے بعد کھیلی گئی ٹسٹ سیریز کو فہرست میں شامل کیا

جس کی وجہ پاکستان کو تین درجہ تنزلی کی صورت میں بھگتنا پڑی۔پاکستان نے 2012 میں اس وقت کی عالمی نمبر ایک انگلینڈ کے خلاف 3-0 سے کلین سوئپ کیا تھا جبکہ سری لنکا کو بھی 1-0 سے شکست سے دوچار کیا تھا لیکن یہ دونوں نتائج اب فہرست سے حذف کیے جا چکے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان ٹسٹ رینکنگ میں تین درجہ نیچے آ گیا۔پاکستان کو نقصان کچھ یوں بھی ہوا کہ فہرست میں پاکستان کی جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 3-0 سے شکست اور زمبابوے کے خلاف ڈرا سیریز بھی شامل ہے۔ادھر اس رینکنگ میں تبدیلی کا سب سے زیادہ فائدہ جنوبی افریقہ اور ہندوستان کی ٹیم کو ہوا۔اس رینکنگ میں تبدیلی سے قبل جنوبی افریقہ عالمی نمبر ایک اور آسٹریلیا عالمی نمبر دو تھا لیکن دونوں کے درمیان صرف چھ پوائنٹس کا فرق تھا لیکن اس تبدیلی کے بعد دونوں کے درمیان 22 پوائنٹس کا بڑا فرق آ گیا ہے۔

اس کی وجہ یہ کہ جنوبی افریقہ نے اپنی شاندار کارکردگی کی بنیاد پر چھ پوائنٹس حاصل کیے جبکہ آسٹریلیا کو دس پوائنٹس گنوانے کا دکھ جھیلنا پڑا اور اب اس کے پوائنٹس کی تعداد 108 ہو گئی ہے جبکہ جنوبی افریقہ 130 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔ہندوستان کی ٹیم کی 2012 ء میں انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف دو سیریز میں لگاتار آٹھ شکستوں کو فہرست سے حذف کردیا گیا اور اس کی اپنے ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا کے خلاف 4-0 سے حاصل کی گئی فتوحات کو شامل کیا گیا جس کی وجہ سے وہ رینکنگ میں ترقی کر گئے۔یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ پہلے اور دوسرے درجے کی ٹیم میں 22 پوائنٹس جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ٹیم میں نو پوائنٹس کا فرق ہے لیکن تیسرے سے ساتویں نمبر کی ٹیموں میں صرف تین پوائنٹس کا فرق ہے۔

TOPPOPULARRECENT