Friday , November 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / پاکستان کی چمپیئنز ٹرافی میں 8 سال بعد پہلی کامیابی

پاکستان کی چمپیئنز ٹرافی میں 8 سال بعد پہلی کامیابی

بارش سے متاثرہ مقابلے میںافریقہ کو 19 رنز کی شکست
برمنگھم۔8 جون (سیاست ڈاٹ کام ) عالمی نمبر آٹھ پاکستان نے چیمپیئنز ٹرافی کے اہم میچ میں عالمی نمبر ایک جنوبی افریقہ کو ڈک ورتھ لوئس قانون کے تحت 19 رنز سے شکست دے کر ٹورنمنٹ میں خود کو باقی رکھا ہے۔یہ پاکستان کی ایونٹ میں آٹھ سال بعد پہلی کامیابی ہے جس کی بدولت پاکستان نے سیمی فائنل میں رسائی کی امیدیں بھی برقرار رکھیں۔ایجبسٹن میں کھیلے گئے گروپ بی کے میچ میں جنوبی افریقہ کے کپتان اے بی ڈی ویلیئرز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ہاشم آملہ اور کوئنٹن ڈی کاک نے ٹیم کو 40 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، عماد وسیم نے ہاشم آملہ کو پویلین واپسی پر مجبور کردیا۔فاف ڈیو پلیسی اور ڈی کاک نے اسکور 60 تک پہنچایا ہی تھا کہ محمد حفیظ نے 33 رنز بنانے والے جنوبی افریقی کاک کی اننگز کا خاتمہ کردیا جبکہ اگلے ہی اوور میں ڈی ویلیئرز گولڈن ڈک کا شکار ہوئے۔تین وکٹیں گرنے کے بعد ڈیوڈ ملر اور ڈیو پلیسی نے اسکور کو بتدریج آگے بڑھانا شروع کیا لیکن اسکور 90 تک پہنچا ہی تھا کہ سرفراز احمد نے حسن علی کو بولنگ پر متعارف کروایا جنہوں نے ڈیو پلیسی کی وکٹیں بکھیر کر کپتان کا اعتماد درست ثابت کیا۔جین پال ڈومینی اور ملر نے ٹیم سنبھالا دینے کی کوشش لیکن حسن نے ڈومینی اور پھر پہلی ہی گیند پر وین پارنیل کو آؤٹ کر کے جنوبی افریقہ کو چھٹا نقصان پہنچایا۔118 رنز پر چھ وکٹیں گرنے کے بعد جنوبی افریقی ٹیم مشکلات میں گھری نظر آرہی تھی

لیکن اس موقع پر ڈیوڈ ملر نے اپنی ٹیم کو مشکلات سے نکالنے کا بیڑا اٹھایا۔انہوں نے 28 رنز بنانے والے مورس کے ہمراہ ساتویں وکٹ کیلئے 47 رنز کی شراکت قائم کی لیکن جنید خان نے اس شراکت کا خاتمہ کردیا۔دوسرے سرے سے ملر نے عمدہ بیٹنگ جاری رکھی جس کی بدولت جنوبی افریقہ کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 219 رنز بنانے میں کامیاب رہی، ملر نے 75 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ پاکستان نے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ شروع کی تو پہلا میچ کھیلنے والے فخر زمان نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 23 گیندوں پر 31 رنز بنا کر خوب داد و تحسین حاصل کی۔جنوبی افریقہ کی طرح پاکستانی اوپنرز نے بھی ٹیم کو 40 رنز کا آغاز فراہم کیا ہی تھا کہ مورنی مورکل نے ایک ہی اوور میں فخر اور اظہر کو آؤٹ کر کے پاکستان کو یکے بعد دیگرے دو نقصان پہنچائے۔ابتدائی نقصان کے بعد محمد حفیظ اور بابر اعظم نے انتہائی محتاط انداز اپنایا جس کے سبب رن ریٹ بہت زیادہ گر گیا۔دونوں کھلاڑیوں نے 94 گیندوں پر 52 رنز کی شراکت قائم کی اور اس خطرناک ثابت ہوتی شراکت کو توڑنے کیلئے جنوبی افریقی کپتان ایک مرتبہ پھر مورنی مورکل کو بولنگ کیلئے لائے جنہوں نے یہ فیصلہ درست ثابت کرتے ہوئے حفیظ کو آوٹ کردیا جنہوں نے 26 رنز بنانے کیلئے 53 گیندیں کھیلیں۔ہندوستان کے خلاف افتتاحی مقابلے میں شکست کے بعد پاکستانی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی تھیں جیسا کہ اوپنر احمد شہزاد کے مقام پر فخر الزماں اور زخمی دہاب ریاض کے مقام پرجنید خان کو ٹیم میں شامل کیا گیا تھا جسکا فائدہ ہوا۔

TOPPOPULARRECENT