پاکستان کی 150مواضعات اور 60 بی ایس ایف چوکیوں پر فائرنگ

جموں؍ نئی دہلی ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی فوج نے آج جموں اور کٹھوا اضلاع میں بین الاقوامی سرحد کے قریب شہری علاقوں اور بی ایس پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی رینجرس نے جموں میں آر ایس پورہ سیکٹر اور کٹھوا میں ہیرنگر سیکٹر پر مارٹر اور آٹومیٹک ہتھیاروں کے ذریعہ فائرنگ شروع کردی

جموں؍ نئی دہلی ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی فوج نے آج جموں اور کٹھوا اضلاع میں بین الاقوامی سرحد کے قریب شہری علاقوں اور بی ایس پی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی رینجرس نے جموں میں آر ایس پورہ سیکٹر اور کٹھوا میں ہیرنگر سیکٹر پر مارٹر اور آٹومیٹک ہتھیاروں کے ذریعہ فائرنگ شروع کردی ۔ انہوں نے کہا کہ 7 بجے شب فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور رات دیر گئے تک یہ جاری رہا ۔ بارڈر سکیورٹی فورس نے موثر جوابی کارروائی شروع کردی ہے ۔ بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع کئی دیہاتوں کا تخلیہ کرادیا گیا ہے ۔ جموں ڈیویژنل کمشنر شانت مانو نے بتایا کہ لائین آف کنٹرول پر پاکستان کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے باعث اب تک 8 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ بی ایس ایف ذرائع نے بتایا کہ 60 سرحدی چوکیوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ۔

بی ایس ایف اس حملہ کا موثر اور منظم انداز میں جواب دے رہی ہے ۔ تقریباً 200 کیلو میٹر طویل بین الاقوامی سرحد پر مسلسل شلباری کے نتیجہ میں آج 11 افراد بشمول 3 بی ایس ایف ارکان زخمی ہوگئے ۔ جموں کشمیر حکومت نے کرائسیس منیجمنٹ گروپس کو متحرک کردیا ہے جو متاثرہ علاقوں سے عوام کا تخلیہ کرارہے ہیں ۔ سرحد کے قریب تقریباً 150 دیہات پاکستانی فائرنگ کا نشانہ بنے ہوئے ہیں ۔ پاکستانی رینجرس نے تقریباً پوری 192 کیلو میٹر طویل سرحد پر رات بھر میں شلباری کی۔ تقریباً 30 ہزار افراد 2003 ء کے بعد جنگ بندی کی بدترین خلاف ورزی کے نتیجہ میں بے گھر ہوگئے ہیں۔ تاحال 8 افراد ہلاک اور دیگر 80 جن میں 9 فوجی بھی شامل ہیں، یکم اکٹوبر سے اب تک زخمی ہوچکے ہیں۔ 60 بی ایس ایف کی سرحدی چوکیاں پاکستان کی شلباری سے متاثر ہوئیں۔ ترجمان کے بموجب ہندوستانی فوجیوں نے فائرنگ کا محدود انداز میں جواب دیا۔

وزیراعظم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی نے پاکستان کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ مہم جوئی کی پاکستان کو اتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی کہ وہ اُسے برداشت نہیں کرسکے گا۔ جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ سرحد پر جارحانہ کارروائی کا ہندوستان کی جانب سے پوری ہمت اور جرأت کے ساتھ جواب دیا جارہا ہے۔ امریکہ کے اعلیٰ سطحی رکن سنیٹ صدرنشین جنوبی و وسطی ایشیائی اُمور کمیٹی ٹموتھی ایم کیم نے کہاکہ ہندوستان اور پاکستان سرحدی بحران کی اقوام متحدہ کی مدد سے یکسوئی کرسکتے ہیں۔ وزیر دفاع ارون جیٹلی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جارحیت کا مظاہرہ کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ کارروائیاں یونہی جاری رہی تو ہم اس کا ایسا جواب دیں گے جس کا پاکستان متحمل نہیں ہوسکتا ۔

پاکستان موثرجواب دینے کا اہل :وزیر دفاع
اسلام آباد ۔ /9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ہندوستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کے خلاف موثر جواب دینے کا اہل ہے اور ہندوستان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ کے پیش نظر ذمہ دارانہ رول ادا کرے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہندوستان کی جارحیت کا موثر جواب دینے کا اہل ہے لیکن سرحد پر جاری کشیدگی کو وہ دو پڑوسی نیوکلیر ممالک کے مابین محاذ آرائی میں بدلنا نہیں چاہتا ۔

TOPPOPULARRECENT