Wednesday , November 22 2017
Home / پاکستان / ’’پاکستان کے بیان سے مطیع الرحمن نظامی غدار ثابت ‘‘

’’پاکستان کے بیان سے مطیع الرحمن نظامی غدار ثابت ‘‘

امیر جماعت اسلامی کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد اسلام آباد اور ڈھاکہ میں لفظی جنگ
اسلام آباد؍ ڈھاکہ۔ 11 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بنیاد پرست جماعت اسلامی کے سربراہ مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے مسئلہ پر پاکستان اور بنگلہ دیش آج الفاظ کی جنگ میں ملوث ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف سخت تنقیدوں کا تبادلہ کیا۔ پاکستان نے نظامی کی موت پر ’گہرے افسوس‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ’واحد گناہ‘ یہ تھا کہ انہوں نے پاکستان کے دستور اور قوانین کی پاسداری کی تھی۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مسٹر مطیع الرحمن نظامی کو 1971ء سے قبل کے مبینہ جنگی جرائم کے ارتکاب پر پھانسی دیئے جانے پر پاکستان کو سخت افسوس ہے‘‘۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’’ان (مطیع الرحمن) کا واحد گناہ یہ تھا کہ انہوں نے پاکستانی دستور و قوانین کی پاسداری کی تھی‘‘۔ بنگلہ دیش نے پاکستان کی تنقیدوں کا فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی بیان سے نظامی کے بحیثیت غدار رول کی دوبارہ توثیق ہوتی ہے جس میں 1971ء میں ’خودمختار بنگلہ دیش‘ کی جدوجہد کے خلاف پاکستانی افواج کا ساتھ دیا تھا۔ بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار نے گزشتہ رات مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے دیئے گئے بیان کے بارے میں ایک سوال پر پی ٹی آئی سے کہا کہ ’’سب سے پہلے، اسلام آباد کا بیان بنگلہ دیش کے داخلی اُمور میں یکلخت مداخلت کے مترادف ہے اور وہ منظم انداز میں ایسا کررہے ہیں‘‘۔ بنگلہ دیشی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان کے بیان سے اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ مطیع الرحمن نظامی 1971ء میں رسوائے زمانہ البدر چھاپہ مار فورس کے سربراہ کی حیثیت سے ایک غدار تھے جنہوں نے 26 مارچ 1971ء کو بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد بھی پاکستانی فوج کی مسلح تائید کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT