Wednesday , September 19 2018
Home / دنیا / پاکستان کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط جاری رہینگے

پاکستان کے دہشت گرد تنظیموں سے روابط جاری رہینگے

واشنگٹن ۔ 19ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) جنوبی ایشیاء کے امور پر ایک امریکی ماہر نے پشاور میں اسکول پر کئے گئے طالبان حملوں اور درجنوں طلباء کی ہلاکت کے تناظر میں جو بیان دیا ہے وہ یقینا قابل غور ہے ۔ یاد رہے کہ درجنوں طلباء کے جاں بحق ہوجانے کے سانحہ نے پوری دُنیا کو رنجیدہ کردیا ہے ۔ امریکی ماہر ڈینئل مرکی جو ہندوپاک اور جنوبی ایشیائی اُم

واشنگٹن ۔ 19ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) جنوبی ایشیاء کے امور پر ایک امریکی ماہر نے پشاور میں اسکول پر کئے گئے طالبان حملوں اور درجنوں طلباء کی ہلاکت کے تناظر میں جو بیان دیا ہے وہ یقینا قابل غور ہے ۔ یاد رہے کہ درجنوں طلباء کے جاں بحق ہوجانے کے سانحہ نے پوری دُنیا کو رنجیدہ کردیا ہے ۔ امریکی ماہر ڈینئل مرکی جو ہندوپاک اور جنوبی ایشیائی اُمور کی کونسل برائے فارن ریلیشنز (CFR) سے وابستہ ہیں، نے کہاکہ دہشت گردانہ حملوں کے باوجود پاکستان دہشت گرد تنظیموں جیسے لشکر طیبہ کے ساتھ حکمت عملی پالیسی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوگی ۔اسکول پر کیا جانے والا حملہ یقینا وحشتناک ہے لیکن اس سے پاکستان کی حکمت عملی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔

اس معاملہ میں اگر ہندوستان اپنی تشویش کا اظہار کرتا ہے تو وہ حق بجانب ہے کیونکہ لشکر طیبہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات یقینا تشویش میں مبتلا کرنے والے ہیں۔ مسٹر ڈینئل کے مطابق لشکر طیبہ کے علاوہ پاکستان کسی دیگر تنظیم کے ساتھ بھی اپنے روابط استوار کرسکتا ہے ۔ انھوں نے اس سلسلہ میں شمالی وزیرستان میں جاری پاکستانی افواج کی کارروائی کا بھی تذکرہ کیا جو گزشتہ چھ ماہ سے پاکستانی طالبان کے خلاف جاری ہے ۔ پاکستان کو اپنے دوست اور دشمنوں میں امتیاز کرنے کی صلاحیت ضرور ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ قصداً چشم پوشی کررہا ہے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ہم ایک بہتر مقام پر ہوں گے ۔ البتہ انھوں نے پاکستان کو امریکہ کی جانب سے سخت شرائط پر دی جانے والی امداد کی تائید نہیں کی ۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے امریکی امداد کا سلسلہ غیرمشروط طورپر جاری رہنا چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان کو ٹکنالوجی کے میدان میں بھی امریکی تعاون جاری رہنا چاہئے تاکہ وہ اپنے مسائل بشمول پاکستانی طالبان سے نمٹنے خود کو بے یارو مددگار نہ سمجھیں۔

TOPPOPULARRECENT