Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / پاکستان کے ساتھ مودی حکومت کی ناقص ڈپلومیسی ملک کیلئے نقصاندہ :کانگریس

پاکستان کے ساتھ مودی حکومت کی ناقص ڈپلومیسی ملک کیلئے نقصاندہ :کانگریس

قومی سلامتی مشیران سطح کی مذاکرات کو تعطل کا شکار بنانے کی دھمکی مضحکہ خیز ‘سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی پالیسی سے غداری

نئی دہلی 21 اگست (سیاست ڈاٹ کام )کشمیری علحدگی پسندوں کے مسئلہ پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قومی سلامتی مشیران سطح کی مذاکرات کو تعطل کا شکار بنادینے کی دھمکی پر کانگریس نے آج حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پاکستان کے تعلق سے اس کی پالیسی مضحکہ خیز ہے ۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت از خود مذاق کا موضوع بن رہی ہے اور وہ پاکستان کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود ہندوستان سے واضح بیان دینے میں ناکام ہوئی ہے ۔ کانگریس نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مودی حکومت کی ناقص ڈپلومیسی سے ہندوستان کے وقار کو دھکہ پہنچ رہا ہے ۔ ہندوستان نے پاکستان کے سامنے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ کشمیری علحدگی پسندوں کے ساتھ قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز کی ملاقات کی صورت میں ہند۔پاک بات چیت نہیں ہونے دے گی ۔ سرتاج عزیز کے اپنے ہندوستانی ہم منصب اجیت ڈویول سے مذاکرات ہونے والے ہیں ۔ سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر منیش تیواری نے کہا کہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے روابط کے تعلق سے از خود مذاق کا موضوع بن رہی ہیں اور اس کی حرکتیں مضحکہ خیز ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کے بزرگ لیڈر یشونت سنہا نے حکومت کے اس عمل کو منسوخ کرنے پر زور دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا پاکستان کے ساتھ اختیار کیا ہوا رویہ  پڑوسی ملک کے ساتھ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی پالیسی کے ساتھ غداری کے مترادف ہے ۔

منیش تیواری نے کہا کہ جس طریقہ سے پاکستان اپنے قومی سلامتی مشیر سرتاج عزیز کو روانہ کررہا ہے اور خود پاکستان نے جو رویہ اختیار کیا ہے کہ اس سے واضح پیام ملتا ہے کہ وہ ہمارے مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا ۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ پاکستان قومی سلامتی امور میں اپنی سفری دستاویزات بھی روانہ نہیں کئے ہیں اور یہ تفصیلات نہیں بتایا کہ وہ ہندوستان میں دن بھر اپنے مجودہ دورہ کے دوران کیا مصروفیات ہوں گے لہذا مسٹر وزیر اعظم قوم کو یہ بتائیں کہ آیا آپ پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کیلئے بین الاقوامی دباو کا شکار ہیں۔ ایک اور سابق مرکزی وزیر آر پی این سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کو بہت پہلے ہی سخت ترین پیام دینے کی ضرورت تھی ۔ ہمارے جوانوں کو متواتر ہلاک کیا جارہا ہے ۔ سرحد پر خواتین اور بچوں کو مار دیا جارہا ہے ۔پنجاب کے گرداس پور میں 20 سال بعد حملہ کیا گیا ۔

اودھم پور میں پاکستانی دہشت گرد گرفتار کیا گیا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت ہند کو سخت ترین پیام دیتے ہوئے پاکستان کو خبردار کرنا چاہئے ۔ اس مسئلہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کا سوال اٹھاتے ہوئے کانگریس ترجمان نے مزید کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں چاہے پاکستان حریت قائدین سے ملاقات کریں ۔ یہ بد بختی کی بات ہے کہ وزیر اعظم سرحد پر ہمارے جوانوں ‘خواتین اور بچوں کی موت پر بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ یہ تشویش کی بات ہے۔ اب تک وہ رشوت ستانی کے مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے اب ہمارے شہریوں کی ہلاکتوں پر بھی خاموش ہیں تو یہ تشویشناک ہے۔ مودی کو بینکاک میں ہوئے دھماکوں اور اموات پر ٹوئیٹر بیان دینے کیلئے وقت ہے۔ یہ بڑی بدبختی کی بات ہے کہ مودی نے سرحد پر ہمارے جوانوں کی موت پر تعزیت پیش نہیں کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ناقص پالیسی کی وجہ سے ہی حکومت کو خطرات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ ملک کے وقار اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے پہل کی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT