Tuesday , October 23 2018
Home / Top Stories / پاکستان کے وزیر قانون مستعفی ،احتجاج ختم

پاکستان کے وزیر قانون مستعفی ،احتجاج ختم

ثالثی کا رول انجام دینے والی فوج پر عدالت کی برہمی ، حکومت کی سرزنش

اسلام آباد ۔27 نومبر ۔( سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے سخت گیر مذہبی گروپوں نے آج اسلام آباد اور دیگر شہروں میں جاری اپنا احتجاج ختم کردیا جب شہروں کے محاصرہ کی برخاستگی کے لئے پیش کردہ کئی مطالبات میں شامل ایک اہم مطالبہ کی تکمیل کے طورپر وزیر قانون زاہد حامد نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔ سکیورٹی فورسیس اور احتجاجیوں کے درمیان اواخر ہفتہ ہلاکت خیز جھڑپوں میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور دیگر 100 زخمی ہوگئے تھے ۔جس کے بعد زاہد حامد نے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ سخت گیر مذہبی گروپوں کے احتجاج کے سبب قومی دارالحکومت میں عام زندگی گزشتہ تین ہفتوں سے مفلوج ہوگئی تھی ۔یہ احتجاجی گزشتہ کئی روز سے قانون انتخابات 2017 ء میں ختم نبوت پر حلف سے متعلق قانون میں تبدیلیوں پر اُنھیں ( وزیر قانون کو) ہٹانے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ تحریک ختم نبوت، تحریک لبیک یا رسول اﷲ ، سنی تحریک پاکستان جیسے مذہبی گروپوں نے تین ہفتہ قبل احتجاج شروع کیا تھا ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق احتجاج کے خاتمہ کیلئے احتجاجیوں کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا گیا ۔ ان کا ایک کلیدی مطالبہ قبول کرلیا گیا ۔ اس دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے احتجاجی دھرنا ختم کرنے کیلئے فوج کو ثالثی کا رول دیئے جانے پر حکومت اور طاقتور فوج کو اپنی سخت برہمی کا نشانہ بنایا۔ جج نے وزیر داخلہ احسان اقبال سے کہاکہ ’’عدالت نے حکومت کو احتجاجیوں سے سمجھوتہ کرنے نہیں بلکہ سڑکوں سے رکاوٹیں ختم کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ لیکن آپ نے جو کچھ کیا ہے وہ سپردگی ہے ‘‘ ۔ جج نے سمجھوتہ کے لئے فوج کے مصالحتی رول پر بھی سخت الفاظ کااستعمال کیا جب وزیر نے کہاکہ فوج کی مدد سے احتجاجیوں کے ساتھ سمجھوتہ طئے کیا گیاہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT