Saturday , October 20 2018
Home / عرب دنیا / پاک وزیراعظم کا جماعت الدعوہ کیخلاف سخت اقدام کا عندیہ

پاک وزیراعظم کا جماعت الدعوہ کیخلاف سخت اقدام کا عندیہ

اسلام آباد ۔ 19 فروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حافظ سعید کی سربراہی والی جماعت ’’جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن‘‘ کے خلاف سخت اقدام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ واضح رہیکہ پاکستان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے الزام کہ پاکستان دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا ہے اور 2 بلین ڈالر سیکوریٹی مدد کی رقم کو روکنے کے فیصلے سے کافی دباؤ میں ہے۔ جماعت الدعوہ کے بارے میں غالب گمان ہے کہ یہ لشکرطیبہ کی بازو تنظیم ہے جوکہ ممبئی دہشت گردانہ حملے کی ذمہ دار ہے جس میں 166 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ جماعت الدعوہ کو یو ایس نے جون 2014ء میں بیرونی دہشت گرد تنظیم ہونے کا اعلان کرچکا ہے۔ ایک میٹنگ میں موجودہ پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دونوں تنظیموں پر پابندی عائد کی جانی چاہئے لیکن وزیرداخلہ اور میٹنگ میں موجود احسان اقبال نے وزیراعظم سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ دونوں تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی تو حکومت پاکستان اس قسم کی سیاسی بحران کا سامنا کرے گی جس کا اسے گذشتہ نومبر میں کرنا پڑا تھا۔ واضح رہیکہ نومبر میں تحریک لبیک یا رسول اللہ نامی اسلامی تنظیم جس کے سربراہ خادم حسین رضوی ہیں، کے پیروکاروں نے فیض آباد، اسلام آباد اور راولپنڈی شہروں کا یرمغال بنا کر خوب ہنگامہ کیا تھا۔ میٹنگ میں وزیراعظم کے مالی اور معاشی امور کے مشیر غفار مفتاح اسمعیل اور خارجہ سکریٹری تہمانیہ جنجوعہ نے آنے والے فینانشیل ایکشن ٹاسک فورس کے ردعمل سے وزیراعظم کو آگاہ کیا جس میں دہشت گردی کو مالی تعاون فراہم کرنے والے ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ ان لوگوں کے اطلاعات کو سن کر وزیراعظم نے تین ممبروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جو کہ اقبال، اسمعیل اور اٹارنی جنرل عشرت آصف پر مشتمل ہے۔ کمیٹی کے ذمہ یہ کام دیا گیا ہیکہ لشکرطیبہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف سخت اقدام کرنے کے فیصلے پر اپنا رخ واضح کرے۔ واضح رہیکہ کمیٹی معاملے کو صدارتی آرڈیننس جس کے تحت اینٹی ٹورزم ایکٹ 1997ء میں ترمیم کی گئی تھی، جس میں یو این سیکوریٹی کونسل کی جانب سے ممنوعہ تنظیموں کے تمام اثاثہ جات کو ضبط کرنے کا قانون ہے کے تحت حل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جس میں آصف کے حوالے سے تذکرہ ہیکہ اب بھی وزیرداخلہ کے نوٹیفکیشن کا انتظار ہے اس کے آنے کے بعد ہی ان دونوں تنظیموں پر پابندی کی کارروائی ممکن ہوسکتی ہے۔ 9 فبروری کے صدارتی آرڈیننس کا اعتبار کرتے ہوئے فیڈرل حکومت نے ان دونوں تنظیموں کے ملک بھر میں اثاثہ جات کو منجمد کرنے کا باقاعدہ طور پر حکم صادر کیا تھا۔ صوبہ پنجاب کی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کے مطابق اس مہینہ کے شروعات میں ہی وزیرخارجہ کے ہدایات کے تحت سعید اور اس کی تنظیم کو کسی بھی سرگرمی پر ملک میں پابندی عائد کردی گئی ہے اور حکومت نے دونوں تنظیموں کی جانب سے پورے پاکستان میں چلائے جانے والے تمام قسم کے خدمات آفسیرز اسکول، دواخانے اور مدارس کو اپنی تحویل میں لینا شروع کردیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT