Monday , July 16 2018
Home / شہر کی خبریں / پتنگ بازی کے لیے چینی ساختہ مانجہ کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ

پتنگ بازی کے لیے چینی ساختہ مانجہ کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ

حکومت سے پابندی ، عمل ندارد ، چینی اشیاء کے بائیکاٹ کی وکالت بے اثر
حیدرآباد۔15جنوری(سیاست نیوز) شہر میں چینی ساختہ مانجہ کی فروخت پر پابندی کے باوجود اس کی فروخت کو روکنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی بلکہ تلسنکرانت کے موقع پر چینی مانجہ کی فروخت عروج پر رہی۔ حکومت ہند کی سرپرستی میں چینی اشیاء کے بائیکاٹ کی مسلسل کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں کیونکہ چینی ساختہ سستی اشیاء کی مارکٹ میں فروخت تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے اور لوگ ان سستی اشیاء کی خریدی کی سمت راغب ہونے لگے ہیں۔ تلسنکرانت کے موقع پر چینی ساختہ مانجہ اور پتنگوں کی فروخت کو کم کرنے کیلئے کی گئی متعدد کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور لوگوں نے ان مانجوں اور پتنگوں کا بھرپور استعمال کیا۔ دیوالی کے موقع پر چینی ساختہ پٹاخوں کی فروخت کو روکنے کے لئے چلائی جانے والی مہم کے دوران چینی اشیاء کے بائیکاٹ کی وکالت کی گئی تھی اور تلسنکرانت سے قبل ملک بھر میں چینی مانجہ کی حوصلہ افزائی نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اس کے نقصانات سے واقف کروایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہا۔ چینی ساختہ مانجہ سے پرندوں کو ہونے والے نقصان اور ان کے گلے میں پھنسنے کے سبب ہونے والی اموات کے متعلق شعور بیداری مہم چلائے جانے کے باوجود بھی چینی مانجہ کی فروخت کا سلسلہ جاری رہا۔دونوں شہرو ںمیں پتنگ بازی کرنے والے نوجوانوں نے پتنگ بازی کے دوران چینی ساختہ مانجہ اور پتنگ کا استعمال کیا جس کے سبب دیسی مانجہ کی فروخت بھی متاثر رہی۔ بتایاجاتاہے کہ ریاست تلنگانہ میں فروخت کئے جانے والے جملہ پتنگوں اور مانجوں میں 40 فیصد سے زائد چینی ساختہ مانجہ اور پتنگیں فروخت کی گئی ہیں اور ان کی مانگ میں اس مرتبہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ رات کے وقت میں روشنی کے ساتھ اڑائی جانے والی پرپتنگوں کی فروخت پر بھی چینی پتنگوں نے فروخت پر سبقت حاصل کرلی ہے جس کے نتیجہ میں دیسی ساختہ پتنگوں کا کاروبار متاثر رہا ۔دونوں شہرو ںمیں بھی چینی پتنگوں اور مانجوں کی دھوم رہی اور پابندی کے باوجود بھی ان کی فروخت کو روکنے کیلئے کوئی کاروائی ہوتی نظر نہیں آئی۔ پتنگوں اور مانجہ کی تجارت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ چینی ساختہ مانجہ اور پتنگوں کی طلب میں ہونے والے اضافہ کے سبب وہ یہ پتنگیں اور مانجہ فروخت کرنے پر مجبور ہیں اور شہر میں یہ پتنگیں اور مانجہ پہنچنے کے بعد اس کی فروخت کو روکنے کی کوشش کی جانا فضول ہے اسی لئے چینی ساختہ مانجہ یا پتنگوں کی فروخت پر امتناع عائد کرنے سے بہتر درآمد کو روکا جائے۔

TOPPOPULARRECENT