Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / پتھر بازی کے دوران گرفتار لوگوں کو بناء سزاء کے نہیں چھوڑا جانا چاہئے۔

پتھر بازی کے دوران گرفتار لوگوں کو بناء سزاء کے نہیں چھوڑا جانا چاہئے۔

Image for representation

جموں اور کشمیر حکومت کی جانب ان عائد کردہ تمام مقدمات سے دستبرداری کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ایک درخواست
نئی دہلی۔جموں اور کشمیر حکومت کی جانب سے فوج کے خلاف پتھر بازی کے واقعات میں ملوث 9730افراد پردرج مقدمات سے دستبرداری کے فیصلے پر روک لگانے کے لئے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کیاگیا۔پیر کے روز ایڈوکیٹ ونیت دانڈا کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن میں کہاگیا ہے کہ’’ مذکورہ لوگ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں اور ان کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔حکومت کے یہ اقدام پتھر بازوں کی حوصلہ افزائی اور فوج کے حوصلے پست کرنے کا سبب بنے گا‘‘۔

محبوبہ مفتی نے فبروری 3کے روز فیصلہ لیاتھا کہ تقریبا9730پتھر بازوں کے خلاف جن پر سال2008سے 2017کے درمیان مقدمہ درج ہیں پر سے تمام کیسس ہٹالئے جائیں گے۔جن میں پہلی مرتبہ اس قسم کا جرم کرنے والوں کو بھی شامل کیاگیاتھا۔مفتی نے کہا تھا کہ معاملہ کی جانچ کرنے والی کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر حکومت نے 1745مقدمات پر ’’ فوری طور پر عمل‘‘ کی بناء پر دستبرداری کا فیصلہ لیا ہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیر قیادت بنچ نے وکیل جے پی دھانڈا سے کہاکہ ’’ ہم اس کو مرکزی درخواست کے ساتھ سنیں گے‘‘ ۔

جے پی نندا جنھوں نے اس بات کو شامل کیاتھا کہ درخواست پتھر بازی کے خلاف مقدمات سے دستبرداری کے معاملے پر توقف کے لئے پیش کی گئی ہے۔ پٹیشن میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ ’’ مقدمات سے دستبرداری کے اس اقدام سے پتھر بازوں کے خلاف حکومت کشمیر کا غیرسنجیدہ رویہ ظاہر ہورہا ہے‘‘۔یہاں پر اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ فبروری13کے روز جب حکومت کشمیر کی میجر ادتیہ کمار کے خلاف دائر ایف ائی آر کے متعلق دھانڈا کی دائر کردہ درحواست پر سنوائی کے دوران ‘ مذکورہ بنچ نے پہلی مرتبہ اس بات کی منظور دی تھی کہ کشیدگی کے شکار جموں اور کشمیر کے کچھ متضاد مسائل کی جانچ اور جوابات تلاش کی جانے چاہئے۔

مذکورہ ایف ائی آر جنوری 27کے روز شوپیان میں پتھر بازی کے پیش ائے واقعہ کے دوران دو عام شہریوں کی ہوئی ہلاکت کے متعلق تھا۔سپریم کورٹ میں داخل پٹیشن میں اس بات کا بھی مطالبہ کیاگیا ہے کہ سپریم کورٹ مرکز کو اس بات کی ہدایت دی کہ وہ ایک ماہرین کا پینل تشکیل دی تاکہ مستقبل میں آرمی جوانوں او ر افسروں کے خلاف کی جانے والی شکایت کی مذکور ہ کمیٹی جانچ کرسکے۔

ایف ائی آر کی برسرخدمات ہائی کورٹ جج کے ذریعہ تحقیقات کے متعلق ہدایت کا بھی درخواست میں مطالبہ کیاگیا ہے۔سپریم کورٹ نے اسٹنٹ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال سے اس معاملے میں مرکز اور جموں کشمیر حکومت سے ان کا نظریہ حاصل کرنے کے بعد اس حساس مسلئے پر فیصلے کی راہ ہموا ر کریں۔مبینہ طور سے فوجی جوانوں کی فائیرنگ میں شوپیان گاؤں کے گنووپورا میں پتھر بازی کے دوران دو شہریوں کی موت واقع ہوگئی تھی ‘ جس کے بعد واقعہ کی ریاستی حکومت نے تحقیقات کے احکامات جاری کئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT