Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانا شہرمیں قدم جمانے ٹی آر ایس اور کانگریس سرگرم

پرانا شہرمیں قدم جمانے ٹی آر ایس اور کانگریس سرگرم

حیدرآباد میں آئندہ انتخابات دلچسپ اور سہ رخی ہونے کا امکان‘ مقامی جماعت کے قائدین میں تشویش

حیدرآباد۔ 8جنوری (سیاست نیوز) آئندہ انتخابات پرانے شہر میں انتہائی دلچسپی کا باعث بنیں گے کیونکہ ان انتخابات کے دوران سہ رخی مقابلہ کے امکانات پیدا ہونے لگے ہیں اور تلنگانہ راشٹر سمیتی نے پرانے شہر میں اپنے کیڈر کو متحر ک کرنے علاوہ عوام کو راغب کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آنے لگی ہے۔ اسی طرح کانگریس نے بھی پرانے شہر میں اپنے قدم جمانے شروع کردیئے ہے اور عوام کے درمیان پہنچ کر اب تک پرانے شہر کیلئے کانگریس کے دور حکومت میں کئے گئے اقدامات اور عوام بالخصوص مسلمانوں کیلئے شروع کردہ اسکیمات کے سلسلہ میں واقف کروایا جانے لگا ہے اور مقامی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے قائدین کے علاوہ سیکولر ازم کے علمبردار وہ قائدین جو دیگر سیاسی جماعتوں میں ہیں وہ بھی کانگریس کی سمت راغب ہونے لگے ہیں۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے پرانے شہر میں کانگریس کی بڑھتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے پرانے شہر میں پارٹی کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پارٹی کیڈر کی جانب سے چلائی جانے والی سرگرمیوں اور حکومت کی جانب سے بجٹ 2018کے دوران فلاحی اسکیمات کے اعلان کے ذریعہ پرانے شہر کے عوام اور مسلمانوں کو راغب کرنے کے اقدامات کئے جا سکتے ہیں ۔ شہر حیدرآباد کے حدود میں موجود حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کے سلسلہ میں بتایاجاتاہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کے مطابق یہ کہا جا رہا ہے کہ کانگریس کو مستحکم ہونے سے روکنے کیلئے ٹی آر ایس انتخابات کے دوران سخت موقف اختیار کریگی اور خود کو ٹی آر ایس کی حلیف جماعت قرار دینے والی سیاسی جماعت کے ساتھ ملکر انتخابی مقابلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ برسر اقتدار جماعت کے قائدین ریاست میں چلائی جانے والی ڈبل بیڈ روم اسکیم کے علاوہ دیگر فلاحی اسکیمات کا تذکرہ کرتے ہوئے عوام کے درمیان پہنچ رہے ہیںاس کے علاوہ پرانے شہر کے مسلمانو ںکو اس بات سے واقف کیا جا رہا ہے کہ حکومت کی ’’ شادی مبارک‘‘ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو 20لاکھ روپئے تک کی اسکالر شپ کے علاوہ اندرون ملک پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو تعلیمی وظائف و فیس کی بازادائیگی کے سبب عوام میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے متعلق نرم گوشہ پیدا ہونے لگا ہے اور گذشتہ بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کو 99 نشستوں پر جی ایچ ایم سی میں کامیابی اور زائد از 32 نشستوں پر دوسرا مقام حاصل ہونے کے سبب تلنگانہ راشٹر سمیتی کے حوصلہ میں اضافہ ہوچکا تھا لیکن مجلس کی جانب سے خود کو ٹی آر ایس کی حلیف سیاسی جماعت قرار دیئے جانے سے اب تک پارٹی نے پرانے شہر میں داخلہ کا ذہن نہیں بنایا تھا لیکن اب جبکہ پرانے شہر میں کانگریس کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ پارٹی کو بنیادی سطح پر مستحکم کیا جائے تو ایسی صورت میں پرانے شہر میں کانگریس کی بڑھتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس نے بھی یہ ذہن تیار کرلیا ہے کہ وہ بھی پرانے شہر میں ٹی آر ایس کو مستحکم کریگی۔ بتایاجاتاہے کہ حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ کے دوران فلاحی اسکیمات کیلئے زائد بجٹ کی تخصیص کا فیصلہ کئے جانے کے پس پردہ حکمت عملی بھی یہی ہے کہ ریاست میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو راغب کیا جاسکے ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے پرانے شہر میں انتخابی مقابلہ کی صورت میں جو حالات پیدا ہونگے اسے سیاسی مبصرین دلچسپ قرار دے رہے ہیںہے جبکہ بعض گوشوں کا کہناہے کہ ٹی آر ایس اگر پرانے شہر کے بعض اسمبلی حلقوں میں سنجیدہ مقابلہ کرتی ہے تو کامیابی بھی ممکن ہے کیونکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی حکومت کے دور میں حکومت کی جانب سے شادی مبارک اسکیم‘ ایک روپیہ فی کیلو چاول ا سکیم‘ فیس بازادائیگی اسکیم کے علاوہ پرانے شہر میں برسہا برس سے زیر التواء پراجکٹس میں تیزی کے سبب ٹی آر ایس سے عوامی وابستگی میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔اس کے علاوہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کی سال گذشتہ چلائی گئی رکنیت سازی مہم کے دوران عوام کے قطاروں میں ٹھہر کررکنیت حاصل کرنے کے سبب بھی مقامی جماعت کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں ۔شہر حیدرآبادکے حلقہ جات اسمبلی میں تلنگانہ راشٹر سمیتی اپنی فلاحی اسکیمات اور کانگریس حکومت کی ناکامی کو بنیاد بنا کر عوام کے درمیان پہنچنے کیلئے کوشاں ہے اور پرانے شہر میں دونوں سیاسی جماعتوں کو عوامی مقبولیت حاصل ہونے لگی ہے جو کہ موجودہ ارکان اسمبلی اور مقامی جماعت کے قائدین کیلئے تشویش کا باعث بنتا جارہا ہے کیونکہ اب تک پرانے شہر میں کسی سیاسی جماعت کو پنپنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا لیکن اب جبکہ خود حکومت اور اپوزیشن دونوںہی کی توجہ شہر کے اس خطہ پر مرکوز ہونے لگی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر حیدرآباد کا یہ علاقہ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگے گا۔

TOPPOPULARRECENT