Sunday , February 25 2018
Home / شہر کی خبریں / پرانا شہر: حکومت کو صرف قاضیوں کے خلاف کارروائی میں دلچسپی دیگر مسائل نظرانداز

پرانا شہر: حکومت کو صرف قاضیوں کے خلاف کارروائی میں دلچسپی دیگر مسائل نظرانداز

بچہ مزدوری کا بھی مسئلہ سنگین، سرکاری محکموں کی مجرمانہ خاموشی سے کارخانہ والوں کی حوصلہ افزائی
حیدرآباد۔14نومبر(سیاست نیوز) پرانے شہرکے معاشی مسائل کے حل کے سلسلہ میں عدم سنجیدگی پرانے شہر کے عوام کیلئے مشکلات کا باعث بنتی جا رہی ہے اور ان مسائل کو حل کرناضروری ہے لیکن اس پر کسی کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ پرانے شہر کے اقلیتی غالب آبادی والے علاقوں میں حالیہ عرصہ کے دوران قاضیوں کے خلاف کی گئی کاروائیوں کے بعد پرانے شہر کو بدنام کرنے کی متعدد کوششیں کی جاتی رہی ہیں لیکن ان حالات کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں کوئی لب کشائی نہیں کی گئی بلکہ صرف یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پرانے شہر میں عربوں سے شادی کے رجحان میں ہورہے اضافہ کے خلاف قانون سازی کی جائے گی۔ اس مسئلہ کے علاوہ پرانے شہر میں دیگر کئی مسائل ہیں لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔پرانے شہر میں بچہ مزدوری کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جانے ضروری ہیں کیونکہ پرانے شہر کے عوام کے معاشی مسائل کے سبب عوام اپنے بچوں کو مزدوری کروانے پر مجبور ہیں اور وہ بچوں کو تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے شروع کردہ سرکاری اقامتی اسکولوں کے بعد اس مسئلہ کی بڑی حد تک یکسوئی ہونے لگی ہے اور عوام بچوں کو مزدوری کروانے کے بجائے ان اقامتی اسکولوں میں داخلہ دلوانے کی سمت مائل ہوئے لیکن اب جو گھر بچہ مزدوری سے چلا کرتے تھے وہ معاشی مسائل کا شکار ہونے لگے ہیں اور اب بھی کئی ایسے بچے ہیں جنہیں پرانے شہر کے کئی علاقوں میں بندھوا مزدور کے طور پر رکھتے ہوئے ان سے کام لیا جاتا ہے ۔ محکمہ پولیس کے علاوہ محکمہ لیبر کی جانب سے اگر بڑے پیمانے پر کاروائی کی جاتی ہے اور بچوں سے مزدوری کروانے والوں پر شکنجہ کسنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے لیکن ان کاروائیوں سے متعلقہ محکمہ جات کا اجتناب بچہ مزدوری کو فروغ دینے والوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتا جا رہاہے ۔بچہ مزدوری کے خاتمہ کے سلسلہ میں متعدد اعلانات کئے جاتے ہیں اور شاذ و نادر کبھی کوئی کاروائی کی جاتی ہے لیکن شہر کے بیشتر ہوٹلوں کے علاوہ ایسے کارخانوں میں جہاں بچوں سے کام لیا جاتاہے اس کا علم رکھتے ہوئے بھی محکمہ جات خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔بچہ مزدوری کروانے والے سرپرستوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھر چلانے کیلئے بچوں کو کام کروانا ضروری ہے اسی لئے وہ انہیں کام پر بھیجتے ہیں جبکہ یہ غیر قانونی ہے۔بچہ مزدوری کے خاتمہ کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ بچوں کے لئے تعلیم کے انتظامات کے ساتھ ساتھ والدین اورسرپرستوں کے لئے معمولی کاروبار کے مواقع پیدا کرنے کے بعد ہی اس لعنت کے خاتمہ کے ذریعہ معاشرہ کو بچہ مزدوری سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔
تنظیموں کے ذمہ داروں کا ماننا ہے کہ بچہ مزدوری کے خاتمہ کیلئے معاشی مسائل کو حل کیا جانا ضروری ہے اورمعاشی مسائل کے حل کیلئے آسان قرض کی فراہمی کے علاوہ چھوٹی تجارتوں کے فروغ پر توجہ دی جانی چاہئے لیکن حکومت اور منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے اس مسئلہ پر عدم توجہی کے سبب معاشی مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں بچہ مزدوری کے مکمل خاتمہ کیلئے اقدامات ممکن نہیں ہوپارہے ہیں۔معیاری تعلیم کی فراہمی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب مفت اقلیتی اقامتی اسکولوں کے قیام کے بعد بچہ مزدوری میں 20 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے لیکن اگر حکومت کی جانب سے بچہ مزدوری کی بنیادی وجہ معاشی مسائل کو تصور کرتے ہوئے ان کے خاتمہ کی حکمت عملی تیار کرتی ہے تو ایسی صورت میں بچہ مزدوری کے خاتمہ میں 90فیصد تک کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT